امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے چین کے کورونا وائرس کے خلاف ابتدائی ردِعمل پر ’انتہائی سنجید تحقیقات‘ کا آغاز کر دیا ہے۔
انھوں نے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی پریس بریفنگ میں کہا کہ ’ہم چین سے خوش نہیں ہیں، ہم اس ساری صورتحال سے خوش نہیں ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ اس وائرس کو ابتدا میں ہی روکا جا سکتا تھا۔ اسے بہت جلد روکا جا سکتا تھا تاکہ یہ دنیا بھر میں نہیں پھیلتا۔
ماضی میں بھی ڈانلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر تنقید کی گئی ہے اور انھوں نے چین کے لیے اپنی سرحدیں بند کرنے کے اقدام کے حوالے سے بارہا بات کی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس اقدام کے باعث امریکہ کو اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے وقت ملا لیکن ٹرمپ انتظامیہ پر یہ بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ انھوں نے اس موقعے سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’جو کچھ ہوا اس کی ذمہ داری صرف ایک ملک پر عائد کی جا سکتی ہے۔
’ہم کسی پر الزام نہیں لگا رہے لیکن ایک گروہ کو اس وائرس کو آغاز میں ہی روک دینا چاہیے تھا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’امریکہ ایسے لوگوں کو کبھی نہیں بھلائے گا جو کسی اور کی نا اہلی یا دوسری وجوہات کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔‘
انھوں نے چین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ پوری دنیا کو اس سے محفوظ رکھ سکتے تھے، صرف ہمیں نہیں، پوری دنیا کو۔‘