لاش کی پکار – تحریر، شہید علی جان

ایڈمن
ایڈمن
16 Min Read
The dead man's body. Focus on hand


قلمی نام ہونک بلوچ

ایک مہینہ قبل میں ہنستا مسکراتا چہرہ لئے دوستوں اور غیروں سے ملکر اپنی و طن کی تاریخ، ادب،اور اپنی قوم کی غلامانہ روش پر بات کرنے والا، آہیں بھرنے ولا اورمسکراکرآنسووں کو پی جانے والانوجوان تھا۔آج میں بلوچستان کی کسی حسین وادی میں پہا ڑ کے دامن ابدی نیند سونے سے قبل سفاک اور ظالم دشمن کے ہاتھوں،ٹارچرسیلوں اور اذیت گاؤں میں تفتیش کے نام پر اذیتیں سہہ سہہ کر شہادت کے رتبہ تک پہنچ گیا ہوں اے میری قوم!میری موت پر افسردہ مت ہونا جس سے دشمن کو یہ تاثر مل سکے کہ تمہاری کمرہمت ٹوٹ چکی ہے۔ حقیقی مسکراہٹ نہ سہی مصنوعی مسکراہٹیں لبوں پرپھیلاکردشمن کی تاثرکو غلط ثابت کریں۔


ہاں مجھے یاد پڑتاہے کہ آزادی کے متوالوں کی لاشیں ملنے کی خبر پرمیں مسکراہٹیں بکھیرکر عزم،ہمت کا کھلاثبوت دیتا تھا۔
اے میری قوم!! یاد رکھ غلام قوم ہتھیاروں کی بر تری پر جنگ نہیں لڑتے بلکہ عزم و ہمت کے پہاڑ بن کر جنگ لڑا کرتے ہیں۔
اس عزم وہمت کی شاندارمثالیں قائم کرکے میری قوم کے والدین،احباب اور دوست اپنے پیاروں کی موت پر ماتم نہیں کرتے بلکہ وہ زبان پر اس بات کا اعادہ کرتے ہیں کہ ًبلوچً گلزمین کے لے میرے پیارے بیٹے نے جان نچھاور کرکے ہمارا سر فخر سے بلند کردیا۔آج سے ہم ایک شہیدکی لواحقین ہیں۔


میری بدن،بلکہ کئی دن گزرنے کے بعد میری بدن کے گوشتوں کو کھانے والے شوقین کیڑے مکوڑے،چیل،کوے اور گدھ میری ہی زمین کے باسی ہیں۔ میری بدن سے اٹھتی تعفن، اے میری قوم! تجھے ظلم کے خلاف برسر پیکار رہنے کو پکار رہی ہے۔ میری سرزمین سے گزرنے والی ہوا، پیغام رسانی کا فرض انجام دے رہی ہے۔ وہ اپنی تازگی کھوکر میری لہوکی بو کو اپنی آغوش میں سما کر میری قوم تک یہ پیغام دے رہی ہے کہ آزادی مارنے اور مرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ ماوزے تنگ کے اس خیال کی تصدیق بھی ہورہی ہے۔کہ امن کیلئے ایک جنگ ناگزیر ہے۔


اے میری قوم! اگر آپ امن پسند ہیں،آپکی امن پسندی تب تک ناکام رہتی ہے جب تک تمھاری دشمن جنگ کی بازی ہار نہیں جاتی اور امن کا خواہاں نہیں ہوتی ہے۔


اے میری قوم! آپ کی تہذیب اور ثقافت میں ہتھیاروں کو بہت ا ہمیت رہا ہے۔ اب تم کیوں ہتھیاروں کے استعمال سے ہاتھ کھینچ رہے ہو؟ تجھے تو ماں اپنی لوریوں میں کہتی رہتی ہے کہ میرا بچہ جوان ہوگا اور چھ قسم کی ہتھیاروں سے اپنے جسم کو سجاکر دشمن کے مد مقابل نکلے گااور اپنی جوانمردی اور بہادری کو ثابت کر دکھاے گا۔(چھ قسم کے ہتھیار،بلوچ لولی سے ماخوذ ہے)
اے میری قوم! کمبر کو یاد کریں اور اُس کی داستان سنیں۔
کمبر کی ماں اپنے گبرو بیٹے کو نصیحت کرتی ہے کہ قیدیوں کو چھڑا کر لاؤ، یا اپنی گھنی بالوں والی سر کی قربانی دے ڈالو۔ جب مجھے تمہار ی شہادت کی خبرپہنچے گی تو میں آنسوبہاکر ماتم وزاری نہیں کرونگی بلکہ نئے کپڑے اورزیور وں سے خود کو سجاکراس رات تمہارے والد سے شب عروسی کی طرح کا رات گزار کر تمہارے جگہ ایک اور گبرو بیٹا جنم دونگی اور اسکا نام کمبر رکھونگی۔


کمبرکی اس بہادرماں کی کردار اپنانے والی سگاربلوچ کی ماں کو یاد رکھ، جس نے مجید اول کی شہادت کے بعد مجیدثانی کو جنم دیکر روشن مثال قائم کی۔


اے میری قوم!
چاکر کی اولادو! ذرا میری طرف تو دیکھو میں موت کو آنکھیں دکھانے والا وہ انسان ہوں،بہادر انسان جو بقول بر ٹرینڈرسل جب انسان کسی اعلی مقصد کیلئے جان نچھاور کرتے ہیں۔تو وہ کس قدر جرات مندانہ کردار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔میں نہ تو کسی ایکسیڈنٹ کا بھیانک نتیجہ ہوں اور نہ طبعی موت کا شکار۔ میں تو موت کو آنکھیں دکھانے والا موت کو اعلی مقصدِ حیات آزادی کی خاطر قبول کرنے والا انسان ہوں۔


اے میری قوم! حواس خمسہ انسان کو لطیف احساسات سے مسرور کرنے والے لالچی انسان کے آلہ کار، آنکھوں کو خوبصورت پھول، کلی اور دلرباعورت سب سے زیادہ پسند ہوتی ہے۔ زبان کولذیز اور مصالحہ دار غذائیں بہت پسند آتے ہیں۔کانوں کو چوڑیوں کی کھنک، پازیب کی جھنکار یا پھر خوب صورت عورت کی سر گوشیاں،موسیقی کی دھنوں سے لبریز گیت،غزل،ہاتھوں کو شیشے کے جام اٹھانا یا پھر نوٹوں کی گڈی اور ان کی گنتی پسند آتا ہے یا پھر کسی جنس مخالف کی نازک اور نرم بدن سے کھیلنا اور پاوں کو مسہری پسند آتے یا گھر کی لان میں چہل قدمی کی نرم و نازک گھاس جو شبنم کی موتی جیسی قطروں سے خود کوسجائے سنوارے ہوئے ہوں۔جلد لمس کیلئے بہت حساس ہے۔ اسے ہمیشہ قیمتی کپڑوں کی جستجو رہتی ہے۔ نرم و گداز بستروں کی شوقین سردی میں گرم سوٹ،قیمتی کوٹ اور جراب ونوٹوں کی اور گرمیوں میں پسینہ کی بدبو سے بچنے کیلئے ائیر کنڈیشنڈ،ائیر کولر،ٹھنڈے پانی،کاٹن اور بوسکی کپڑے بہت پسند آتے ہیں۔


اے میرے قوم!میں تا حیات اِن سب کا طلبگار نہ رہا اور آپ سب کو اِن سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہوں۔کیونکہ یہ سب چیزیں عیش وعشرت کے سامان نہ صرف آپ کے حسین خیالات (جیسے آزادی فکر،انسانیت اور برابری کی فکر)کو گندہ کر دیتی ہے۔ اِن کے حصول کی خاطر آپ کو ضمیر کا سودا کرنا پڑے گا۔


اے میری قوم!ضمیر کے سوداگروں سے اپنی ضمیر کو بچاوٗ۔
ورنہ تمہارے لئے پچھتاوا ہی رہ جائیگا۔سادگی اپنا ؤ انقلابی دوستوں کی طرح،جو میسر آیا پہن لیا،جو میسر آیا کھا لیا۔اور حالات کو بدلنے کی سعی میں فکر وتحقیق میں ڈوبے ہوئے، نظریات کو عملی طور پر دُرست ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے دشمن کو محاذ پر شکست دینے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے، یہ عظیم اِنسان آپ سب کی آزادی،ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنی جانوں کو قربان کر رہے ہیں۔


اے میری قوم! قوموں کی مقدر قوموں کی اجتماعی کردار ہی بناتی ہے۔آپ سب کی انفرای کرداروں میں جو باتیں مشترک ہوتی ہیں۔انہی کو میں اجتماعی کردارکا نام دے رہا ہوں۔


تم میں ہر ایک کو چاہیے کہ اپنی انفرادی کردار پر غور کرے اور اجتماعی کردار ا پنائے ۔قوم کی تقدیر بدل دو۔آپ جانتے ہی ہیں مایوسی گناہ ہے۔مایوسی کو اپنے پاس بھٹکنے مت دو۔ امید وں کے سہارے جینا ہی بلوچ نفسیات کا حصہ ہے۔
اے میرے قوم! اچھی طرح سن لو میں تو یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے امید وں میں خواب دیکھ کر جی لو۔
نہیں!نہیں! ہر گز نہیں!!
میں توکہہ رہا ہوں حالت سے گھبرا کر مایوس مت ہو جاؤ…
کوشش جاری رکھو اس امید کے ساتھ کبھی تو حالات بدل جائیں گے۔حالات ضرور بدلیں گے۔
یاد رکھ! حالات کو اپنے حق میں ہموار کرنا ہی کامیابی ہے۔انسانی کوشش سے ہی یہ سب ممکن ہے۔وگرنہ تقدیر ایک معمہ بنے

گا جب اِس سے انسانی کوششوں اور اسکے نتائج کی نفی کی جائے۔
اے میری قوم!ہوشیار رہنا آ ستین کے سانپوں سے،جو بھیڑ کے بھیس میں بھیڑے کا کردار ادا کرنے والے ہیں۔سفید پوش،لمبی داڑھی اور ہاتھ میں تسبیح رکھنے والے نرم گفتار وں سے اور ہاں ہوشیاررہنا!ان لوگوں سے بھی جو بظاہر بلوچ اور بلوچیت کا دم بھرتے ہیں۔عام طورپر یہ لوگ ایرانی سیاہ چادر،گھیردار شلوار اور بلوچی چوٹ پہنتے ہیں۔مگر اپنی مجالس میں قوم کو خوف دلانے اور ان کی ہمت ڈھانے کیلئے ریاست کی ظلم و ستم کی داستان سنا کر لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ریاست سے مقابلہ کرنا ناممکن ہے۔پتھر سے سر ٹکرا نے والے اپنا ہی سر پھوڑتا ہے۔


اے میری قوم! مسلمان بننے،اچھے مسلمان بننے کے چکر میں کہیں تم اپنی ایمان نہ کھو بھیٹیں۔ قوم سے غداری کا مرتب نہ ہو بھیٹیں۔تمہاری غربت وافلاس دیکھ کر در قوم کے مبلغ یہ کہتے ہیں۔کیا صحابیانہ زندگی ہے!
ہائے ہماری کشتی تو ڈوب رہی ہے اور بلوچستان والوں کی کشتی پار لگے گی۔


اِن کی یہ الفاظ ایک طرح سے ہماری مزاق ہے۔کہ بلوچ قوم ترقی کا خواہاں نہیں اور دوسری طرف یہ لوگ ہمیں اندھیرے میں رکھ کر ہماری وسائل پر ہاتھ صاف کرنا چاہتے ہیں۔


اگر یہ سچے ہیں کہ ہماری زندگی صحابانہ ہے تو یہاں کیوں نہیں بستے،تھوڑے دنوں کیلئے آنے والے یہ لوگ جلد ہی زندگی کے سہولتوں کی کمی کا رونا روتے نظر آتے ہیں۔اور ہاں جب یہ بسنے کا کہیں خواہش رکھتے ہیں تو سب سے پہلے ان کی پینے کیلئے صاف پانی کا انتظام ہوجاتا ہے۔ ان کی تفریح کیلئے پارک بننے لگتے ہیں۔ کالجوں کی دیوار یں سر اٹھانے لگتی ہیں۔گیس پائپ لائن بچھائی جاتی ہیں۔آمدورفت کی سہولتیں مہیا کرنے کی تگ ودود میں سرکار کی نیندیں حرام ہوجاتی ہیں۔
مگر یہ سب ہمارے لئے کیوں نہیں؟ کیا کیڑے مکوڑوں کو ان سب کی ضرورت رہتی ہے۔ یقیناً اے میری قوم کے فرزندو! تم کہو گے نہیں۔بس یہی جواب ہے میرے سوالوں کا کہ وہ ہم کو حشرات الارض سمجھتا ہے۔ ِنکما کہتے ہیں، کام چور، چوری کا عادی، منشیات کا عادی، جھگڑالو،غیر متحد، غبی نہ جانے اور کیا صفات ہماری لئے وہ بیان کرتے ہیں۔


اے میری قوم! تمیں چائیے کہ فلسفے کا مطالعہ کرو!
انقلاب کی داستان کو پڑھو، خون بہانا ظالم کا شیوہ رہا ہے۔مظلوم قربانی کیلئے خودکو پیش کرتے رہے ہیں۔ تب جاکرخون رنگ لے آئی ہے۔تب کانٹوں سے پھول کھل آتے ہیں۔اور خزاں پر بہار غالب آتی ہے۔تب غربت دم توڑتی ہے۔اور خوشحا لی کا آغاز ہو گیا ہے۔تب قوم ترقی کی منازل طے کرتا گیاہے۔


میں نے اپنی قربانی دی ہے۔انسانیت کی عظیم آدرش کی خاطر میں تو چاہتا تھا کہ کوئی ظالم نہ رہے۔مظلوم مظلوم نہ رہے۔
ظالم سے میں ظلم کی طاقت چھیناچاہتا تھا اور مظلوم کی برداشت کی عادت توڑنا چاہتا تھا۔ کیو نکہ ظلم کی طاقت ختم کرنے کے لیے مظلوم کی برداشت کی عادت توڑنا چائیے، میں تو برابری،مساوات،کا قائل تھا۔میں ظالم اور مظلوم کی فرق مٹانا چاہتا تھا۔میں تو بھیڑکو بھیڑ ے کے ساتھ ایک گھاٹ میں پانی پلانا چاہتا تھا۔


دولت کو ایک انسان کی ہاتھ میں دینے کے بجائے میں چاہتا تھا۔دولت سب انسانوں پر یکساں تقسیم ہو۔
میں یہ تو نہیں چاہتا تھا کہ سرمایہ دار، ٹھیکدار گرم کمرے میں ریشم اور اون کے گرم لحافوں میں نیند کے مزے لوٹ رہا ہو اور باہر گارڈکے نام پر ایک انسان،ٹھیکیدار جیسا انسان سردی سے ٹھٹرتا،لوہے کی ایک مشین کو ہاتھ میں لیکر دوسرے کی سلامتی کی خاطر نیند کی آغوش سے محروم ہے۔ سب بورژوا ٹھیکیدار کی نیند سوتے ہیں۔میں اِن کی نیند یں حرام کرکے ان کوبتلانا چاہتا تھا کہ درد کی شدت سے تڑپنے والے مریض کو دوا چاہیے!سردی کے مارے ہوئے کو مکان گرم کپڑے اور گرم بستر چائیے۔بھوکے پیٹ میں نہ سونے والوں کو غذا چائیے۔


اے میری قوم! پہچانیے اِن خون چوسنے والے جونکوں کو!اِن کی عیش وعشرت ہی تمہاری غربت کی سبب ہے۔
مجھے افسوس ہے اِس بات پر کہ میری رنگت،لباس اور میری ہم زبان یہ لوگ اپنی عشرت کدوں کو آباد رکھنے کیلئے ریاست کے غنڈے بن چکے ہیں، اور قوم کے مقابلے سرکاری خونی کھیل کے اکھاڑے میں اتر چکے ہیں۔
یاد رکھیں اے میرے ہموطنو!! ان ہم رنگ،ہم نسل،ہم زبان اور ہم لباس لوگوں سے تھمارا نپٹنا بہت ضروری ہے۔
مار دو ان غداروں کو، جس طرح موسی نے اپنی قوم کے ان لوگوں کو ماراجنہوں نے قوم کو گمرا ہ کرنے کی خاطر گائے کے بچھڑے کو معبودتسلیم کرنے کی ترغیب دی۔ان سے لڑنے کی خاطر آپ کے لئے یہ بات کافی ہے کہ وہ تمیں چھوڑکر غیروں کی صفوں میں جا گھسا ہے۔اس لئے اپنوں کے سلوک کی مستحق نہیں۔ ایسے لوگوں کو قومی تحریکوں میں مارنا خانہ جنگی کے زمرے میں نہیں آتے۔بلکہ اس عمل کو صفائی کا عمل کہتے ہیں۔جس طرح پانی کی صفائی کیلئے جراثیم کو مارنا چائیے با لکل اسی طرح قومی تحریک میں ایسے جراثیم نمالوگوں کو مارنا بھی صفائی کا عمل کہا جاتا ہے۔


اے میری قوم!
میرے خون کا بدلہ آزادی ہے۔ میں تو آزادی اور انسانیت کی خاطر جان قربان کرچکا ہوں۔میرے ہموطنو! مجھے معلوم ہے کہ تمھاری رگوں میں دوڑنے والی خون کے اندر بدلہ لینے کی خواہش دو سو سالوں تک جوان رہتی ہے۔ بدلہ لینے کی اسی جزبے کو استعمال میں لا!تمہاری دشمن بہت کمزور اور ڈرپوک ہے۔
ظالم لوگ اندر سے کھوکھلے ہوتے ہیں۔ مظلوم کے خلاف یہ لوگ اوزار اور مشین استعمال کرتے ہیں۔ لیکن مظلوموں کی ہمت اور تدبیریں ان کو خاک چھاٹنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔
اے میری قوم!کمر ہمت کس لو!ظالم دشمن کے خلاف ورنہ!!!

                   زمین تو زمین رہے گی۔  مگر    تمہاری  نہیں  
Share This Article
Leave a Comment