پاکستان کے صوبہ سندھ کے مرکزی شہرکراچی کے کیماڑی کے علاقے مواچھ گوٹھ میں 18 افرادبچوں کی اموات کی وجوہات جاننے کے لیے محکمہ صحت کی جانب سے تشکیل دیا گیا میڈیکل بورڈ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ قریبی غیر قانونی صنعتی علاقے سے زہریلی گیسوں کا اخراج ان اموات کی بڑی وجہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق پوسٹ مارٹم، ہسٹوپیتھولوجی، ٹاکسیکولوجی اور وائرولوجی رپورٹس کے نتائج کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا جس کے لیے متعلقہ جوڈیشل مجسٹریٹ کی ہدایت پر بورڈ نے 8 لاشیں بھی نکالی گئی تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ موت کا طریقہ غیر فطری تھا اور خسرہ جیسے عوامل موت کی وجہ میں کم کردار ادا کرتے ہیں‘۔
5 اور 31 جنوری کے درمیان کیماڑی کے علی محمد اور مواچھ گوٹھ میں مختلف عمر کے 18 لوگوں کی اموات کی اطلاع ملی تھی جن میں زیادہ تر دو سے چار سال کی عمر کے بچے تھے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پلاسٹک جلانے والی فیکٹری بند ہونے کے بعد اموات رک گئیں۔
حتمی انکوائری رپورٹ میں صنعتی تجزیاتی مرکز جامعہ کراچی کی مٹی کے نمونوں کی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا گیا جس میں ’چاروں نمونوں میں ہائیڈرو کاربن، فیتھلیٹس (پلاسٹکائزرز)، پولی سائکلک آرومیٹک ہائیڈرو کاربن، ایسٹرز، آکسیرین اور ڈائی آکسولن کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا‘۔