پاکستان کے صوبہ سندھ کے علاقے مواچھ گوٹھ جو کیماڑی کے احاتے میں آتا ہے جہاں گزشتہ ماہ 19 بلوچ بچوں کی پراسراراموات ہوگئی ۔
ایک متاثرہ بچے کے والد کی جانب سے ایف آئی آر درج کروانے کے بعد پوسٹ مارٹم کیا گیا جس میں انہوں نے بیٹے کی غیر فطری موت کا الزام لگایا تھا۔
پانچ سینئر ماہرین کی تیار کردہ اس کے مطابق مبینہ طور پر 31 جنوری کی صبح بچے کی موت ’فیکٹریوں کے زہریلے دھوئیں کی وجہ سے ہوئی جیسا کہ پولیس رپورٹس میں بتایا گیا تھا‘۔
سوگوار خاندان نے صحت کے حکام کو بتایا تھا کہ بچے کو اپنی موت سے 3 سے 4 روز قبل کھانسی اور بخار ہوا تھا اور اس نے کھانا بھی چھوڑ دیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس رات بچے کو سانس لینے میں دشواری ہوئی اور چند ہی منٹوں میں وہ دم توڑ گیا۔
اپنے ریمارکس میں ماہرین نے کہا کہ ’دونوں گھٹنوں، ٹخنوں کی اندرونی سطح، دونوں پیروں کے اوپر، انگلیوں اور نیچے کی سطحوں پر متغیر شدت کے سیاہ ذخائر دیکھے گئے، جنہیں بار بار دھونے کے باوجود دور نہیں کیا جاسکا۔
ہسٹوپیتھولوجی اور کیمیائی تجزیہ کے لیے دائیں ٹخنے سے مکمل جلد (بغیر دھوئے) ہٹائی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جسم کے کئی حصوں بشمول گردوں، پھیپھڑوں اور جگر سے خون کے ساتھ ساتھ ٹشوز کے نمونے بھی تجزیے کے لیے بھیجے گئے ہیں اور موت کی وجہ کیمیائی تجزیہ، ہسٹوپیتھولوجی ٹیسٹ اور لیبز کی رپورٹ آنے تک محفوظ کرلی گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پہلے دن سے تحقیقات میں سنگین کوتاہیاں ہوئیں، مثال کے طور پر ماحولیاتی آلودگی کے شواہد/نشانات کو اکٹھا کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی، جسے ابتدائی طور پر متعدد اموات کی وجہ کے طور پر اجاگر کیا گیا تھا۔
واضع رہے کہ اس سے قبل حکومت سندھ نے ایک رپورٹ شائع کی تھی جس میں دعویٰ کیاگیا تھابچوں کی اموات زہریلی گیس سے نہیں بلکہ ڈینگی اورکوروناسے ہوئیں تھیں۔