تمپ سے ٹورانٹو کی سوگوار زندگی | عزیز سنگھور

0
69

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی سابق چیئر پرسن بانک کریمہ بلوچ نے شہادت حاصل کرنے کے بعد بلوچ سماج میں ایک اعلیٰ رتبہ حاصل کیا۔ یقیناً اس کی موت ایک افسوسناک عمل تھا۔ مگر دوسری جانب ایک جرات و بہادری کی علامت بھی تھی۔ اس کے خون نے بلوچ معاشرے میں خواتین اور بچیوں کو ایک اعلیٰ مقام دیا۔ اب تک بے شمار لوگوں اپنی بیٹیوں کی پیدائش کے موقع پر خوشی اظہار کرتے ہوئے انہیں کریمہ کا نام دیتے ہیں ۔ یہ نام دراصل ایک شہادت کی علامت ہے۔ جس کو ہر بلوچ قبول کرنے کے لئے تیار ہے۔ کیونکہ شہادتیں تحریک میں ایک نئی جان و طاقت ڈالتی ہے۔ اور یہ بانک کریمہ نے کرکے دیکھایا ۔


کریمہ بلوچ کی لاش 21 دسمبر 2020 کو کینیڈا کے شہر ٹورانٹو میں ایک جزیرے کے پاس پانی میں ملی۔ جس نے بلوچ معاشرہ سمیت دنیا کو جنھجوڑ دیا۔ اور یہ الزام لگایا گیا کہ کریمہ بلوچ کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے والے ہی قتل کے ذمہ دار ہیں۔


میری (راقم) ملاقات کریمہ بلوچ سے کراچی پریس کلب کے باہر تادم مرگ بھوک ہڑتال میں ہوئی تھی۔ یہ بھوک ہڑتالی کیمپ بی ایس او کے رہنما لطیف جوہر نے بی ایس او کے چیئرمین زاہد بلوچ کی بازیابی کے لئے 46 دن تادم بھوک ہڑتال کی۔ تاہم ان کی بازیابی آج تک نہیں ہوئی۔ یہ کیمپ اپنی نوعیت کا طویل بھوک ہڑتالی کیمپ تھا ۔ اس سے قبل ایک تادم بھوک ہڑتالی کیمپ بی ایس او کے سابق چیئرمین اور بلوچ گوریلا رہنما ڈاکٹر اللہ نذر کی گمشدگی کے حوالے سے کراچی پریس کلب کے باہر لگایا گیا تھا ۔ تاہم وہ کچھ دن رہا ۔ میں نے کریمہ بلوچ کو کم عمری میں نظریاتی طورپرپختہ پایا اور ان میں اسٹوڈنٹ لیڈر شپ کی تمام خوبیاں اور صلاحتیں دیکھیں ۔


بی ایس او کے گمشدہ چیئرمین زاہد بلوچ کی بازیابی کے لیے پریس کلب کے باہرتادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ کے انتظامات کی ذمہ داری کریمہ بلوچ کررہی تھی۔ کریمہ کے مطابق زاہد بلوچ کو مبینہ طور پر کوئٹہ سے فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کردیا ہے۔ زاہد کی بازیابی کے لیے لطیف جوہر نے تادم مرگ بھوک ہڑتال کی تھی۔ لیکن 46 روز کے بعد بلوچ قیادت اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی اپیل پر انھوں نے بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔


واضع رہے کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نےاس وقت کے وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی اپیل پر بھی بھوک ہڑتال ختم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے بعد لطیف جوہر اور کریمہ بلوچ روپوش ہوگئے اور کینیڈا میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔
کریمہ بلوچ کی موت کے علاوہ دو اور بلوچوں کی موت بیرون ملک میں ہوئی ان کا اب تک معمہ حل نہ ہوسکا جن میں ساجد حسین بلوچ اور عارف بارکزئی شامل ہیں۔


سویڈن میں بلوچ صحافی، ساجد حسین بلوچ کے لاپتہ ہونے کے بعد لاش ملی تھی۔ کریمہ بلوچ کی طرح ساجد حسین بلوچ کی لاش بھی پانی سے نکالی گئی تھی۔ ساجد بلوچ کا تعلق ضلع کیچ کے علاقے نظر آباد سے تھا۔ساجد حسین کراچی میں انگریزی اخبار دی نیوز سے منسلک تھے۔ جبکہ وہ سویڈن میں شفٹ ہونے کے بعد آن لائن اخبار بلوچستان ٹائمز کے ایڈیٹر اِن چیف بن گئے۔ ساجد بلوچ سے میری پہلی ملاقات، تاریخ دان اور مصنف اختر بلوچ کے دفتر میں ہوئی تھی جب ان کا تعلق صحافت سے نہیں تھا بلکہ وہ کراچی میں طالعبلم تھے۔ اور فارغ اوقات میں اختر بلوچ کے دفتر میں کام کرتے تھے۔


اسی طرح بی ایس او کے سرگرم رکن عارف بارکزئی کی پراسرار موت ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک اسٹوڈنٹ ہاسٹل میں ہوئی تھی۔ وہ 10 جنوری، 2008 کو اپنے ہاسٹل کی 11ویں منزل سے گر کر موت کا شکار ہوئے۔ عارف بارکزئی کا تعلق کراچی کے قدیم علاقے لیاری سے تھا۔ اور اس کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے تھا۔


بانوک کریمہ بلوچ کی جسد خاکی کو بھی حکومتی سرپرستی میں تدفین کی گئی ۔ اس بات سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری سرکار اتنی کمزور کیوں ہوگئی تھی کہ وہ ایک بچی کی لاش سے ڈر رہی تھی۔ بانک کے ہزاروں چاہنے والوں کو ان کے آخری دیدار سے روک دیا گیا۔ حتٰی کے خواتین اور بچیوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا۔


کینیڈا میں مقیم بلوچ صحافی حنا ماہ گل رند کے مطابق بانک کریمہ کی تدفین ان کی وصیت کے مطابق کی گئی۔ ان کے وصیت کے مطابق وہ اپنی زندگی کے آخری لمحات تمپ میں گزارنا چاہتی تھیں۔جہاں ان کی روح موجود ہے۔


ان کی وصیت ’وائے وطن ہشکیں دار‘ کے فلسفے کے عین مطابق تھی۔’وائے وطن ہشکیں دار‘ کے معنی ہیں کہ ’ہمارے وطن میں اگر خشک لکڑی بھی ہو تو ہمارے لیے وہ بھی بہت بڑی چیز ہے۔


کریمہ بلوچ کوکینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک میں رہنے کے باوجود انہیں بلوچستان جیسا پسماندہ خطہ دل و جان سے عزیز تھا۔ وہ نہ صرف اپنی سرزمین کی مٹی سے پیار کرتی تھیں بلکہ بلوچستان میں جاری ناانصافی و جبر کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں۔ وہ مٹی کا قرض اور ھمارا فرض کے نظریات پر عمل پیرا تھیں۔


بانک کریمہ بلوچ نے اپنی سیاسی جدوجہد کا آغاز بی ایس او کے پلیٹ فارم سے کیا وہ تاریخ میں پہلی بلوچ لڑکی ہے۔ جو بی ایس او کی چیئرپرسن منتخب ہوگئی تھی۔ وہ ایک مضبوط، دلیر، بہادر، نڈر اور با ہمت لڑکی تھیں۔ انھوں نے ہر وقت ہر جگہ ہر پلیٹ فارم پر بلوچ قوم اور اس کی بقا کی جنگ لڑی اور بلوچ خواتین میں سیاسی شعور کو بیدار کیا۔بانوک کریمہ سے قبل بلوچ سیاست میں بلوچ لڑکی یا خواتین کا کوئی اہم رول نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ سیاست میں مرد اور نوجوان ہوتے تھے۔ تاہم کریمہ بلوچ کی بلوچ سیاست ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔

انہوں نے بلوچ سیاست کی بنیاد گھر کی دہلیز سے ڈال دی۔ وہ پچاس فیصد خواتین آبادی کوگھر کی چاردیواری سے نکال کر سیاسی میدان میں لیکر آگئی۔ اس پچاس فیصد آبادی کو باقاعدہ متحرک اور سرگرم کیا۔ پہلی دفعہ بلوچ سیاست ایک نئے دور سے گزری۔ جس کی قیادت لڑکوں کی جگہ لڑکیوں نے لے لی۔ اس عمل سے تحریک میں ایک نئی روح اور جان آگئی۔ کریمہ نے بلوچ مزاحمتی سیاست میں ایک سرخیل رہنما کی حیثیت سے نا قابل فراموش کردار ادا کیا۔ وہ بے شمار بلوچ خواتین اور بچیوں کا رول ماڈل بن چکی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ بانوک کریمہ صرف ایک لڑکی ہی نہیں تھی بلکہ وہ ایک سوچ ہے، وہ ایک نظریہ ہے اور وہ سوچ اور نظریہ مزاحمتی جدوجہد کی بنیاد ہے۔

***

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here