بلوچستان اسمبلی نے سی ٹی ڈی کو بلوچ نسل کشی کی اجازت دی ہے،ماما قدیر

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا لواحقین کی بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 4799 دن مکمل ہوگئے ہیں۔

بی ایس او پجار کے چیئرمین زبیر بلوچ، بی ایس او کے وائس چیئرمین اشرف بلوچ، سیکرٹری جنرل ماما عظیم بلوچ اور دیگرنے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

احتجاجی کیمپ میں وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ اور وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ بیٹھے رہے۔

اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم حالت جنگ میں ہے اور ایک نازک دور سے گزر رہی ہے، بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگیوں میں بتدریج اضافہ دیکھنے کو آ رہا ہے، پنجاب کے اسپتالوں میں بلوچوں کی مسخ شدہ کا انبار لگا دیا گیا ہے جن کو لا وارث قرار دیا جا رہا ہے، دہشت گرد سی ٹی ڈی فورس کو بلوچستان اسمبلی کی طرف سے بھی بلوچ نسل کشی کرنے کی باقاعدہ رضامندی دی گئی، جس میں کہا گیا اس کو وسعت دی جائے گی اور سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت شخصیت پرستی یا ہیرو ازم کا نہیں ہے بلوچ قوم پرست حلقوں کو یک دست ہو کر ان ریاستی مظالم کو روکنا ہوگا، عدم برداشت اور اتحاد کا فقدان بلوچ قوم کی بد بختی ہے۔اپنے وجود کو بچانے کیلئے ہمیں من حیث القوم ایک ساتھ ہو کر جدوجہد کرنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج بلوچستان اور کراچی میں بھی بلوچ محفوظ نہیں ہے، گزشتہ مہینے کی تاریخ کو کراچی سے دو نوجوانوں کو خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے جبری لاپتہ کیا، جنکے فیملیز نے ہمیں اس بات کی تصدیق کی، انکے نام گلشاد ولد دلوش اور سراج ولد اصغر ہیں، دونوں طالب علم ہیں، اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment