چین کے صدر شی جن پنگ نے جمعے کو وسطی ایشیائی پڑوسیوں کو خبردار کیا کہ وہ بیرونی لوگوں کو اجازت نہ دیں کہ وہ”کلر ریوولیشنز” یعنی رنگین انقلاب یا عوامی احتجاجوں کے ذریعے ان کے ملکوں کو غیر مستحکم کریں۔ انہوں نے چین کی طرف سے انسداد دہشت گردی کا علاقائی تربیتی مرکز قائم کرنے کی بھی پیشکش کی ہے۔
صدر شی نے یہ بات شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
روسی صدر ولادیمیر پوٹن اور وسطی ایشیائی ممالک، پاکستان، ہندوستان اور ایران کے رہنما قدیم شہر سمرقند میں منعقد ہونے والے سکیوریٹی سربراہی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔ ایران اس فورم میں ایک مبصر کی حیثیت سے شریک ہے اور اس نے مکمل رکنیت کے لیے درخواست دی ہے۔
صدر شی کی طرف سے”رنگین بغاوتوں ” کا حوالہ چین کی سرکار کے اندر پائی جانے والی اس تشویش کی عکاسی کرتا ہے جس کے متعلق بیجنگ کا کہنا ہے کہ جمہوریت کے حامی اور انسانی حقوق کے کارکنوں کے لیے مغربی حمایت شی کی حکمران کمیونسٹ پارٹی اور دیگر آمرانہ حکومتوں کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔
شی نے اس موقع پر سابق سوویت یونین اور مشرق وسطیٰ میں غیر مقبول حکومتوں کو گرانے والے مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمھیں چاہیے کہ ہم بیرونی طاقتوں کو رنگین انقلاب کو ہوا دینے سے روکنا چاہیے۔
اپنے خطاب میں شی نے 2,000 پولیس افسران کو تربیت دینے، علاقائی انسداد دہشت گردی کا تربیتی مرکز قائم کرنے اور ”قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار کو مضبوط بنانے” کی پیشکش کی۔ لیکن انہوں نے اس سلسلے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی۔
خبر رساں ادارے ‘ایسو سی ایٹڈ پریس’ کے مطابق شنگھائی تعاون تنظیم کو، جسے ایس سی او کے نام سے جانا جاتا ہے، روس اور چین نے امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے تشکیل دیا تھا۔
یہ سربراہی اجلاس دو سال قبل کورونا وائرس کی وبا کے پھوٹنے کے بعد سے شی کے پہلے بیرون ملک دورے کا حصہ ہے اور اس میں ان کی شرکت بیجنگ کے لیے خود کو ایک علاقائی رہنما کے طور پر پیش کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
ایس سی او کا ایک روزہ سربراہی اجلاس یوکرین پر روس کے حملے اور آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان لڑائی کے پس منظر میں ہورہا ہے۔