بلوچستان کے علاقے رکھنی، وڈھ اور لورالائی میں فائرنگ کے تین واقعات میں دوبھائیوں اور ایک طالب علم سمیت 4افراد ہلاک ہوگئے جبکہ بیلہ سے ایک لاش برآمدہوئی ہے۔
آمدہ اطلاعات کے مطابق رکھنی میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 2افراد ہلاک ہوگئے۔
دونوں سگے بھائی بتائے جارہے ہیں۔
پولیس کے مطابق گزشتہ روز رکنی کے علاقے یفلور مل کے قریب دبہ روڈ پر مسلح افراد کی فائرنگ سے کمال خان اور اختر جان نامی دو افرادہلاک ہوگئے جنہیں گھر جاتے ہوئے نشانہ بنایاگیا تھا۔
دونوں افراد آپس میں بھائی بتائے جارہے ہیں۔
لاشوں کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردیاگیاہے۔
دوسری جانب وڈھ میں کلی صالح محمد روڈ پر باراتیوں پر فائرنگ سے گورنمنٹ انٹر کالج وڈھ کے طالب علم یاسر احمد مینگل موقع پر ہلاک جبکہ عنایت اللہ شیخ شدید زخمی ہوگئے۔
لاش اور زخمی کو وڈھ ہسپتال منتقل کرنے کے بعد زخمی کومزید طبی امداد کے لئے خضدار ہسپتال منتقل کردیاگیا۔
لاش کوورثا کے حوالے کردیا گیا۔
دریں اثنا ضلع لورالائی کے کٹوی موڑ پر مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔
پولیس کے مطابق گزشتہ روز لورالائی میں کوئٹہ روڈ کٹوی موڑ کے مقام پر مسلح افراد نے فائرنگ کر کے حسین ساکن کلی لغئی کو فائرنگ کرکے قتل کردیا اور فرار ہوگئے۔
لاش کو ضابطے کی کارروائی کے بعد ورثاء کے حوالے کردیاگیاہے۔
پولیس کے مطابق واقعہ پرانی دشمنی کا شاخسانہ بتایاجارہاہے۔
علاوہ ازیں بیلہ، مقامی ہوٹل سے افغان باشندے کی دو روز پرانی لاشیں برآمد
بیلہ کے ایک مقامی ہوٹل سے ایک شخص کی دو روز پرانی لاش برآمد ہوئی ہے۔
لاش سول اسپتال منتقل کرکے ایدھی فاؤنڈیشن کے حوالے کردی گئی ہے۔
جمعہ کے روز کوئٹہ کراچی آرسی ڈی شاہراہ بیلا میں واقع ایک مقامی ریسیورنٹ کے واش روم سے دو روز پرانی لاش برآمد ہوئی ہے۔
ایدھی ایمبولینس کے ذریعے سول اسپتال بیلہ پہنچائی گئی۔
مقامی پولیس نے ضروری کاروائی کے بعد لاش ایدھی فانڈیشن کے حوالے کردی۔
بیلا پولیس کے ذرائع کے مطابق متوفی کی موت ریسٹورنٹ کے واش روم میں حرکت قلب بند ہونے سے واقع ہوئی ہے۔
مرنے والے کا نام صدیق اللہ ولد موسی محمد سکنہ کوئٹہ بتایا جاتا ہے۔