بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں جعلی مقابلے میں جبری لاپتہ افراد کی ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں کے خلاف گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کیسامنے لواحقین کادھرنا جاری ہے جسے آج چھ دن مکمل ہوگئے ہیں۔
دھرنے میں وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز اور اتحادی تنظیموں کے کارکنان سمیت جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کثیر تعداد میں شریک ہیں۔
دھرنے میں گزشتہ دنوں سے مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی اور اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ وہ زیارت میں بیگناہ اور پہلے سے جبری لاپتہ بلوچوں کے فورسز کے ہاتھوں قتل عام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، اسے ریاستی جبر اور بلوچ نسل کشی کا تسلسُل سمجھتے ہیں، ایسے حربوں سے بلوچ قوم کو انکے جدوجہد سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔
مزید تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں زیارت میں پاکستانی فورسز نے جعلی آپریشن کے نام پر پہلے سے جبری لاپتہ افراد کو جعلی مقابلے میں شہید کرکے انکی لاشیں پھینکے تھے، جنکے لواحقین انکی بازیابی کیلئے مسلسل احتجاج کرتے آ رہے تھے، اسکے باوجود ان کو شہید کرکے ان کی وابستگی کسی مسلح تنظیم سے ظاہر کی جو ریاستی بوکھلاہٹ سمجھا جاتا ہے، ریاستی اداروں اور فورسز کے ہاتھوں جبری لاپتہ افراد کے فیک انکاؤنٹر میں ماورائے قانون قتل کے خلاف اور جبری لاپتہ افراد کے زندگیوں کو لاحق خطرات کے پیش نظر پچھلے چھ دنوں سے بلوچ جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کے ساتھ دوسرے تنظیموں کے کارکنان گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاوس کے سامنے احتجاجی دھرنا دئیے بیٹھے ہیں۔
دھرنا کے شرکاء اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے تین سادہ سے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ زیارت سانحہ پہ جوڈیشل کمیشن قائم کی جائے، تمام لاپتہ افراد کی رہائی جلد از جلد ممکن بنائی جائے اور تمام لاپتہ افراد کے لواحقین کو یہ یقین دہانی کرائی جائے کہ انکے جبری لاپتہ زیر حراست لوگ جعلی مقابلوں میں نشانہ نہیں بنائے جائیں گے۔
دھرنے کے مقام پر گزشتہ دنوں وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا ہم گورنر ہاؤس کے سامنے احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں مگر اب تک کسی بھی حکومتی وفد نے سنجیدہ مزاکرات کرنے کی کوشش نہیں کی ہے، انہوں نے مزید کہا تھا کہ اگر ان کے جائز مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے اور حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی جاری کی تو منگل (آج) سے ہم بلوچستان بھر میں شدید احتجاجی سلسلوں کا آغاز کیا جائے گا۔
دھرنے میں شریک لاپتہ افراد کے لواحقین میں بوڑھے مائیں، بہنیں اور کمسن بچے بھی شریک ہیں جو موسم کی شدت میں پچھلے چھ دنوں سے وہاں آسمان تلے بیٹھے ہیں، رات کی سردی اور دن میں سورج کی سورج کی گرمی اور بارشوں کیوجہ سے انکے طبیعتیں بگڑتی جا رہی ہیں، بلوچستان کے صوبائی سرکاری اعلٰی حکام کے دفاتر سے چند گز کی پر لانگ پہ بیٹھے ہیں لیکن آج تک کسی حکومتی اعلیٰ عہدیدار کو یہ ہمت نہیں ہوئی کہ جا کے انکی حال پرسی کرے، بطور اس ریاست کے پر امن شہری اپنے جبری لاپتہ لوگوں کی زندگیوں کے حوالے سے ریاست سے محض یہ یقین دہانی مانگتے ہیں یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ریاستی اداروں کی تحویل میں زیر حراست انکے پیاروں کو کہیں جعلی مقابلوں میں نا مارا جائے ان کا مطالبہ ہے کہ پاکستان کی صوبائی اور وفاقی حکومت، پاکستان کی قانون نافذ کرنے والے والے اعلیٰ ادارے ان کو یہ یقین دہانی کرائیں کہ انکے پیاروں کو فیک انکاؤنٹر میں قتل نہیں کیا جائے گا۔
ان فیملیز کو سالوں سے جبری لاپتہ اپنے پیاروں کی زندگیوں کے بارے شدید خدشات لاحق ہیں، زیارت سانحے کے بعد یہ خدشات اور خطرات نے شدت اختیار کیا ہوا ہے اور فیملیز اپنے گھر نہیں بیٹھ سکتے۔