بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے سامنے ریڈ زون میں بلوچ لاپتہ افراد اور زیارت سانحہ کے مقتولین کے لواحقین کادھرنا آج پانچویں دن سے جاری ہے لیکن ابھی تک حکومت بلوچستان اور حکام بالا کی طرف سے خاطر خواہ اور سنجیدہ مذاکرات نہیں ہوسکے ہیں۔
اس احتجاجی دھرنے کووائس فار بلوچ مسنگ سمیت BSO،BYC، NDPاورBWF کی مکمل حمایت و مدد حاصل ہے۔
دھرنا مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت بلوچستان اور متعلقہ ادارے ابھی تک لاپتہ افراد کی فیملیز کے فریاد کو سنجیدگی سے لینے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف فیک انکاؤنٹر کے نام سے ہمارے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو مارتے ہیں اور دوسری طرف جب ہم پرامن طریقے سے آئین کے مطابق انکی بازیابی کیلئے احتجاج کرتے ہیں تو ہمیں جھوٹی تسلیاں دے کر بازیاب کرنے کا وعدہ کرتے ہیں اور اپنے کئے ہوئے وعدوں کو پھر فراموش کرتے ہیں لیکن اس دفعہ ہم یہ مصمم ارادہ کر چکے ہیں کہ انکی جھوٹی تسلیوں میں نہ آتے ہوئے اپنے احتجاج کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے دھرنے کو آخری نتیجے تک جاری رکھیں گے۔