ظالم ہمیشہ اپنے غرور کے نشے میں مظلوم کی وجود کو ختم کرنا چاہے گا۔ لیکن یہ ہر گز ممکن نہیں کہ مظلوم ہمیشہ ظلم سہتا رہے ۔
تاریخ بھری پڑی ہے ایسے حقیقی واقعات سے کہ جابر کبھی بھی فلاح نہیں پایا اور نہ پائے گا ۔ ظالم بھلا ! کیسے اور کیوں فلاح پائے گا ۔
ہر اندھیری رات کے بعد ایک نئی صبح روشنی کے انتظار میں جو ہوتا ہے ۔ جب کرنیں ہر جگہ پڑتی ہیں اور چیزیں صاف ظاہر دکھائی دینے لگتی ہیں۔ اسی طرح ظلم بھی ظالم کے ساتھ ہر طرف عیاں ہوتا ہے ، مزاحمت کی یہ کرنیں اس ظلم کو اس کے انجام تک پہنچاتی ہے۔
ظلم جبر اپنے خاتمے کے لئے خود مظلوم کو متوجہ کرتی ہے کہ اس ظلم کو جلد از جلد ختم کیا جائے ۔ ظلم وہ مرض ہے جو خود کی علاج کے لیے دوا اور طبیب ساتھ لاتی ہے ، خاتمے کی یہ دوا اور طبیب مزاحمت ہے۔ گونجتی ہوئی آوازیں چیختی ہوئی فریادیں ، سرخ آنکھوں سے بھرے آنسو جیسے ظلم کی صورتیں مختلف ہوتی ہیں تو اس کا طبیب بھی مختلف صورتوں میں شمع کی طرح نمودار ہوتی ہے ۔
بلوچستان میں ظلم و جبر جو کئی سالوں سے جاری ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ دنیا کے ہر کونے میں یا کسی بھی ملک میں مظلوم قوموں کے اوپر کیے گئے مظالم کی بے پناہ اور خوفناک واقعات تاریخ کا حصہ ہیں چاہے وہ کسی رنگ و نسل سے ہوں لیکن یہاں تو انتہا ہے۔
بلوچ قوم کئی ادوار سے اس ظلم کے خلاف لڑرہے ہیں اور یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ۔ بلوچ قوم کو زبان ، مذہب ، فرقہ واریت ، گروہوں کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی سازشیں ہمیشہ سے ناکام رہی ہیں یہ سب بلوچ قوم کی جدوجہد کا ثمر ہے اور ظالم کے منہ میں ہمیشہ خاک ہی رہ گیا ہے ۔ اس ظلم کے خلاف بلوچ قوم ہمیشہ ایک مضبوط چٹان کی مانند ثابت قدم رہی ہے اور رہے گا۔
اس جدوجہد کی کئی مثالیں ہیں ۔
جیسے ہی بلوچ اور بلوچ مزاحمت کی صدا گونجنے لگتی ہے تو ظالم کے لیے زمین تنگ پڑ جاتی ہے اور اس کی کانپیں ٹانگنیں لگتی ہیں ۔ اس صدا سے دوسری طرف ظالم کے خلاف نہ اٹھنے والی مردہ ضمیریں جاگ جاتی ہیں ، بے جانوں میں جان آجاتی ہے ۔ خوف سے ڈرے لوگ ظلم کے خلاف لڑنے کے لیے مزاحمت کا راستہ اپناتے ہوئے پر عزم ہوجاتے ہیں ۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے بہار میں ہر درخت سرسبز ہوجاتا ہے اسی طرح بے انتہا ظلم کے بدلے بلوچ قوم ہر بار کی طرح کمر بستہ ہوجاتا ہے ۔
ہر دفعہ جب ظلم کا پلڑا بھاری ہونے لگا ہے تو بلوچ قوم نے اس پلڑے کو ہلکا کردیا ہے ۔ انسانی جبر کے خوفناک جبر سے انسان ڈر جاتے ہیں بے حس ہو جاتے ہیں گونگے اور بہرے بن جاتے ہیں یہاں تک کہ اندھے بھی اور ظلم کے خلاف سر خم تسلیم کرتے ہیں جو کسی بھی انسان کا شیوہ نہیں ہوتا ۔
اس جبر کے خلاف بلوچ اور بلوچ مزاحمت جوش و خروش سے ، سینہ تان کے سر بفلک اس خوف کا استقبال کرتی ہے اور تاریخ رقم کرتی ہے پہاڑوں میں ، صحراؤں میں ، میدانوں میں ، زمین کے ہر کونے کونے میں سمندر کی گہرائیوں میں آسمان کی اونچائیوں میں ، ایوانوں میں ، اداروں میں ظالم کے سامنے جان کی پرواہ کئے بغیر درد آلود چہروں کے ساتھ اور درد آشنا آنکھوں سے ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ ظالم کا جبر ان کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتا اور نہ ان کے وجود کو فنا کر سکتی ہے اور مظلوم کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے اور ہوکر رہے گی ۔
بلوچ مزاحمت کو ہر بار زندہ رکھنے کے لئے اور اس مزاحمت کی خوبصورتی کے لیے بلوچ قوم نے اپنے خون سے ، مسخ شدہ لاشوں سے ، لاپتہ افراد کی صورت میں اور ان کی بازیابی کے لیے کئی قسم کے ظلم برداشت کرکے اس مزاحمت کو خوبصورت اور مثالی بنایا ہے اس جدوجہد میں بلوچ قوم کی خواتین کی قربانیاں بھی مثالی ہیں جنکی تاریخ میں ایسی جدوجہد کی مثالیں نہ ملنے کر برابر ہے۔
"ظلم بے انتہا ہوگا تو مزاحمت بے تحاشا ہوگا "
پھر محقق ، دانشور ، مصنف ، صحافی ، تجزیہ نگار ، ادیب ، شاعر علم و ذانت کے ہر طبقے سے سپاہی اپنا فرض انجام دے کر بلوچ مزاحمت کی صدا کو بلند و بالا کرکے ظلم کے خلاف تیز دھار تلوار کی طرح ظلم و جبر کو روندتے ہوئے منزل کی جانب گامزن ہوجاتے ہیں ۔
ظالم جتنے روپ دھار لیتی ہے بدلے میں بلوچ قوم کے سپاہی اس سے کئی پاک روپ دھار کر اسے بے نقاب کرتے ہیں ۔
ظالم نے آج تک کسی مظلوم کو شکست نہیں دی بلکہ اس کے جبر کو ہمیشہ ختم کرنے کے لیے پر جوش اور بلا خوف لڑنے کے لیے پر عزم رہی ہے ۔
بلوچ قوم دنیا دنیا کے جس کونے میں بھی ہو وہ ظلم کے خلاف لڑنے کے لیے ایک عظیم الشان مزاحمتی سوچ رکھتی ہے یہ عظیم سوچ ہر مظلوم بلوچ کے اندر ایک انقلابی تحریک پیدا کرتی ہے ۔ یہ انقلاب بلوچ قوم کے حقوق کی آزادی کا نام ہے اور اس نظریہ انقلاب کو حیات رکھنے کے لیے اور اسے پروان چڑھانے کے لیے کسی بھی قربانی سے پیچے نہیں ہٹےگی اور سرخرو ہوکر دم لے گی ۔
بلوچ مزاحمت زندہ باد
بلوچستان زندہ باد
***