بلوچستان کے علاقے تمپ سے تعلق رکھنے والے کراچی یونیورسٹی میں ایم اے سوشیالوجی کے طالب علم کلیم اللہ کو گذشتہ رات گلستان جوہر میں گھر سے جبری طور لاپتہ کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ انہیں پاکستانی فورسز و خفیہ اداروں نے حراست میں لیکر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے جس کے بعد ان کے متعلق کسی قسم کی معلومات نہیں مل سکی ہے۔
دریں اثناء مارچ کے مہینے میں لاہور سے جبری گمشدگی کا شکار نوشکی کا رہائشی ہارون بادینی ولد شاہنواز خان بادینی بازیاب ہوکر اپنے گھر پہنچ گیا جب کہ ان کے ہمراہ لاپتہ ہونے والا سلال بادینی ولد حاجی عبد الباقی بادینی تاحال بازیاب نہیں ہوسکا ہے۔مذکورہ نوجوان تبلیغ کے لیے نکلے تھے جن کی تشکیل پنجاب کے شہر لاہور میں ہوا تھا جنہیں مسجد سے حراست میں لیکر لاپتہ کیاگیا۔