یک جہتی وقت کا اہم تقاضہ ہے |سمیرا بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
10 Min Read

کہتے ہیں، جو ریاست انسانی زندگی میں تعلیم اور معاشی تقاضوں اور ضرورتوں کی ذمہ دار نہیں ہوتی وہاں غربت اور امارات وراثت بن جایا کرتی ہیں ۔

میں کوئی بہت زیادہ تجربہ رکھنے والی نہیں ہوں، درجہ بالا سطور ایک کتاب میں، میں نے پڑھی تھیں، تو میرے سامنے میرے ہی وطن بلوچستان کی تصویر ابھری، غربت ، بے روزگاری ، ناخواندگی جیسے میرے وطن کی تقدیر میں زبردستی لکھ دیا گیا ہے۔

جی ہاں آپ نے صحیح پڑھا، "زبردستی”. عرش والے نے ایک ایسی سر زمین عطا کی ہے، کہ اس میں نہ معدنیات کی کمی ہے، نہ سمندر ، نہ موسم اور نہ ہی وطن پر جان نثار کرنے والوں کی۔ لیکن فرش والوں نے جو زبردستی کی بد نصیبی ہمارے نصیب میں لکھا ہے، اسکی وجہ سے ہمیں وارثت میں غربت ملی اور ہماری سر زمین کی دولت حکمرانوں کے لیے امارات بنانے کی وجہ بن گئی ہیں، لیکن لگتا ہے، کہ اب اسکے زوال کا وقت شروع ہونے والا ہے۔

سنا تو ہو گا ، کہ وقت ہمیشہ اک سے نہیں رہتا ہے، تغیر و تبدل فطری عمل ہے۔ گوادر میں جو لوگوں کا طوفان امڈ نکلا تھا ، وہ کوئی ایک یا دو دن ،ایک یا دو سال کی محرومیوں کا ردعمل نہیں ہے۔ بلکہ جو یہ آتش فشاں کی صورت میں پھٹ پڑا تھا، اسکا لاواتو کب سے اندر ہی اندر پک رہا تھا۔ پاکستان کی اگر 75 سالہ تاریخ پر ہم نظر ڈالیں تو اس میں بلوچ قوم کے ساتھ ظلم اور زیادتیوں کے قصے ہی ملیں گے، بلوچ قوم اور پاکستانی ریاست کے مابین بہت ہی تلخ تاریخ کے شواہد ملتے ہیں، جو اب ناقابل برداشت حد تک پہنچ گئے ہیں۔۔!! اگر ہم تاریخ میں ذرا پیچھے جائیں، تو یہ سب واضح ہو جائے گا۔

کہتے ہیں کہ ہر صدی میں کوئی نہ کوئی تاریخ بنتی ہے، اور اس تاریخ کے عینی شاہدین بھی ہوتے ہیں۔ ہم بھی شاید ایک تاریخ کے عینی شاہدین میں سے ہیں، جو اس صدی میں واقع ہوا تھا۔ اور وہ واقعہ نواب اکبر خان بگٹی کی شہادت اور انکا پہاڑوں جومسکن بنانےکا تھا، جسکے بعد سے تو بلوچستان کا پاکستان کے ساتھ جو زبردستی کا رشتہ تھا، اسکی کمزور بنیادوں میں داڑاریں پڑگئیں،اور اسکے بعد سے بلوچستان میں جو ایک خونی انقلاب شروع ہوا تھا، وہ آہستہ آہستہ اپنی منزل کی طرف گامزن ہے۔

کہتے ہیںکہ خونی انقلاب انسانی زندگی کی بے بسی کا المناک نتیجہ ہے، ہاں بلوچستان میں جو خونی انقلاب جاری ہے، وہ اس قوم کی حق تلفی اور اسکی بے بسیوں کے سبب شروع ہوا تھا۔ ایسے ہی لوگ گھروں سے نہیں نکلتے ہیں۔ آسودہ معاشروں میں انقلاب جنم نہیں لیتے ہیں۔بلوچستان میں جس انقلاب نے نواب صاحب کی شہادت کے بعد سے جنم لیاتھا۔وہ پاکستان کے انہی ظلم و جبر ، ناانصافیوں کے تسلسل کا نتیجہ تھا، جو وہ 75 سالوں سے بلوچ قوم پر ڈھا رہی ہیں۔

پاکستان کے مظالم سے جس طرح پوری دنیا آشنا ہے۔ اسی طرح بلوچستان اور پاکستان میں بسنے والے باقی اقوام بھی آشنا ہیں۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ دنیا کو اپنے اوپر ہونے مظالم سے آگاہ کرکے انھیں بلوچ قوم کا ہمدرد بنا کر بلوچ قوم کی آجوئی کے عمل میں انھیں اپنا ہم آواز بنائیں۔

اگر میں اپنی بات کروں تو مجھے بلوچستان کے حالات کی آگاہی کا احوال سوشل میڈیا کو جوائن کرنے کے بعد ہوا کہ اصل میں بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے، اور پاکستان کی میڈیا جس سنسرشپ کی زد میں ہے، اس میں اسکے نیوز چینلز میں بلوچستان سے متعلق ٹیکر میں بھی کوئی نیوز نہیں چلتی ہے۔۔۔!! صحافت کی طالبعلم ہونے کی حیثیت سے جب میں پاکستانی نیوز چینلز کو دیکھتی ہوں، تو مجھے بلوچستان میں سب خیر و عافیت ہی لگتی ہے لیکن جب شوشل میڈیا کو کھولتی ہوں تو صحیح حالات کا علم ہوتا ہے۔بلوچستان میں ظلم و جبر اور بربریت کیسے اپنے عروج پر ہیں، بلوچ طلبا کا بلوچستان یونیورسٹی سے جبری طور پر اٹھایا جانا،اور طلبا کا کلاسز اور پیپرز کا بائیکاٹ کرکے اپنے طلبا دوستوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دھرنے میں بیٹھنا، اب تو پورے پاکستان کی یونیورسٹیوں سے چاہے وہ اسلام آباد ہو ، لاہور ہو یا کراچی سے بھی بلوچ طالبعلموں کو جبری گمشدگی کا شکار کیا جاتا ہے۔ ہوشاب میں معصوم بچوں کا بہیمانہ قتل اور انکے کے بزرگوں کا میتوں کے ساتھ کوئٹہ میں دھرنا دینا، سب سوشل میڈیا کے ہی توسط سے معلوم ہوتا ہے۔

کہتے ہیں کہ بزدلی ظالم ہوکر ہی قوت پا سکتی ہے، بالکل صحیح بات ہے، اب ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، کہ کیسے کیسے ظلم بلوچ قوم پر ہو رہا ہے۔ بلوچوں پر سب سے بڑا ظلم یہ کیا گیا ہے، کہ انکو انکے بنیادی حقوق سے محروم رکھ کر انھیں غریبی کے اس دلدل میں دھنسادیا گیا ہے، کہ وہ اپنے بچوں کو اچھی تعلیم تک نہیں دے سکتی۔ اگر کوئی بلوچ پڑھ لکھ کر باشعور ہوتا ہے، تو اسکو لاپتہ کرکے اسکی مسخ شدہ لاش پھینک دی جاتی ہے۔ دوستوں کو کہتے سنتا ہوں ، کہ بلوچ قوم متحد نہیں ہے، اسی لیے چکی میں پس رہی ہے۔۔۔۔!!

ایک طالب علم ہونے کی حیثیت سے جب میں دیکھتی ہوں تو بلوچ قوم میں اتحاد تو دیکھنے کو بہت ملتی ہے، لیکن حیرانگی اس بات کی ہے، کہ ظلم کے خلاف جنگ میں اسے ابھی تک کامیابی کیوں نہیں ملی۔۔!!

کچھ وقت پہلے گوادر کے احتجاج اور دھرنے کی مثال لے لیجئیے، بلوچستان یونیورسٹی میں طالب علموں کے دھرنے کو دیکھئیے، برمش اور حیات بلوچ کے واقعے کے وقت یکجہتی اور اتحاد کی مثال لیجیے۔ ان سب واقعات کے وقت بلوچ قوم کو کسی لیڈر نے احتجاج کے لیے گھر سے نہیں نکالا تھا، عوام خود ہی ہمدردی کے جذبےکے تحت یکجا ہو کر ظلم کے خلاف ہم آواز بن گئے۔

جان نثار بلوچ بھی محاذ پر ثابت قدمی سے لڑ رہے ہیں، بقول عبد النبی بنگلزئی صاحب کے،انکا ایک انٹرویو جو انھوں نے بلوچستان پوسٹ کو دیا تھا ، اسے جب میں نے پڑھا تو ایک سوال کے جواب میں انکا کہنا تھا کہ اگر ہم گزشتہ ادوار اور آج کی تحریک کو دیکھیں تو ظلم کے خلاف جنگ کی یہ تحریک مجھے زیادہ کامیاب لگتی ہے، کیونکہ اس بار تو ہماری بلوچ مائیں اور بہنیں بھی ہمارے ساتھ ہیں، ہمارے دانشور اور مکاتب فکر کے شعبہ کے لوگ بھی ہمارے ساتھ ہم آواز ہیں، اس سے بہترین اتحاد اور یکجہتی کی مثال ہمیں بلوچ قوم کی تاریخ میں پچھلے ادوار کی تحریکوں میں نہیں ملتی ہے۔

26 اپریل 2022 کے کراچی یونیورسٹی میں ہماری ایک بلوچ بہن کی عظیم قربانی نے بلوچ آجوئی کے لیے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اس عظیم قربانی کے بعد تو یہ بات پتھر پر لکیر بن گئی ، کہ بلوچ قوم کی آجوئی اب زیادہ دور نہیں رہی۔۔۔۔!!!

بلوچ قوم کو اگر اس وقت ضرورت ہے، تو ایک ایسے لیڈر کی جو پوری قوم کو یکجا کرے۔ جیسے نواب اکبر خان بگٹی کے وقت پوری بلوچ قوم یک جان ہو گئی تھی، اسی یکجہتی کی اب پھر سے قوم کو اشد ضرورت ہے۔ نواب بگٹی کی شہادت کے بعد جیسے بلوچ قوم ایک چھتری کے سائے تلے یکجا ہو گئی تھی۔اسی طرح اب پھر سے بلوچ قوم کو متحد ہوکر اپنی جنگ لڑنی ہوگی، بلوچ قوم کو اس محاذ میں کامیابی کوئی اور نہیں صرف بلوچ ہی دے سکتی ہے۔

جب ہم تاریخ کو پڑھتے ہیں، تو ہمیں یہی درس ملتی ہے، کہ وہی قومیں اپنے مقصد، جدوجہد، اور نظریے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہوئے ہیں، جنکی سرپرستی ایک رہنما (لیڈر) نے کی ہو، قوم ایک ہجوم ہے، اسے یکجا کرکے اسے بند مٹھی کی طرح مضبوط اور طاقتور بنانا ایک لیڈر کا کام ہوتا ہے۔ماتما گاندھی، نیلسن منڈیلا، مائوزے تنگ جیسے لیڈر کی بلوچ قوم کو ضرورت ہے۔ بلوچ قوم متحد ہے، وہ صرف ایک آواز کی منتظر ہے، جو انھیں گھروں سے نکال سکے، جیسے ابھی گوادر کے لوگوں نے مولانا ہدایت الرحمان کی آواز پر لبیک کہا۔ اسی طرح پورا بلوچستان اپنے لیڈر کے آواز پر لبیک کہے گا، وہ لیڈر آئے تو صحیح، بلوچ قوم اسکی آواز کا منتظر ہے۔پتہ نہیں وہ لیڈر کب ہمیں ملے۔۔۔!!!

***

Share This Article
Leave a Comment