بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 4650 دن مکمل ہوگئے۔
نیشنل پارٹی کے سابقہ ضلعی صدر حاجی نیاز محمد لانگو،علی احمد اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں نے کیمپ آ کر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے ان سے مخاطب ہو کر کہا کہ ظالموں کا ظلم جہاں جہاں تک انتہا کی حدیں پار کرنے لگتا ہے وہاں وہاں تک مظلوم، محکوم پھنسے ہوئے اکثریتی آبادی نے پر امن جہد کر کے جابر مظالم طبقات کو شکست فاش دی کر معاشرے میں پر امن جد وجہد برپا کر کے نظام ظلمت کا خاتمہ کر دیا۔
تاریخ کے اوراق اس بات کا گواہ ہے کہ فتح،کامرانی ہمیشہ مظلوم محکوم عوام کا مقدر رہا ہے آج دنیا جدید ہوتے ہوئے بھی طبقات، ظلمت سے خالی نہیں مگر مظلوم،محکوم کا جہد مسلسل بھی جاری و ساری ہے اس بھری دنیا میں بلوچ بھی ایک مظلوم و محکوم ہے جس کی وطن پر اغیار کا قبضہ ہے اور بلوچ قوم کے فرزند اپنے پیاروں کو ظالموں سے بازیاب کرانے کے لیے جہد مسلسل میں معروف عمل ہیں۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پر امن جد وجہد کا راستہ صلیب دار کے نتیجے میں گذرتی ہے صلیب دار کا راستہ بھی ہمت، استقامت عزم و جرات مانگتی ہیں اس راستے پر وہی چلتے ہیں جو سر ہتھیلی پر رکھنے کے لیے مجبور کرتاہے اور اُس عمل کو وہی لوگ اس حد تک لے جاتے ہیں جنہیں مقصد کا پتہ ہو جس طرح بلوچ پر امن جد وجہد پیاروں کے بازیابی میں شامل ہیں۔
نوجوانوں کو اس مقصد اور اس منزل مقصد تک پہنچنے کی تمام دشواریوں اور حالات کا پتہ ہے جنہیں ادراک ہے کہ ہم نے جس راستے کا انتخاب کیا ہے اس راستے پر کانٹے ہی کانٹے ہیں اس راستے میں آگ اور پانی ہے اس راستے میں خواہشوں آسائشوں عیش و عشرت کے برعکس آبلہ پانی،بھوک،پیاس اور ہر قدم پر دشمن کی گولیاں تشدد، ازیت، جیل اور زندان ہے ہاں اس عظیم مقصد کے وہ شہادت ہے جس میں آپ موت کو شکست دے کر دائمی زندگی اختیار کر تے ہو۔ یہ ان تمام شہیدوں کا راستہ ہے جنہوں نے اس مقصد کو پانے کے لیے اس دن شہادت کا فیصلہ کیا جس دن پر امن جد وجہد کا انتخاب کیا۔