کوئٹہ: بلوچ لاپتہ افراد کے احتجاجی کیمپ جاری، 4646 دن مکمل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے آج 4646 دن مکمل ہوگئے۔

کلی شابو کوئٹہ سے نصیب اللّہ بلوچ، نظر بلوچ، داد محمد بلوچ اور دیگر نے کیمپ آ کر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ ظل الٰہی عجیب بات ہے کہ قبضہ گیر کسی بھی مذہب کسی بھی قوم سے ہو کہیں بھی کس ملک پر قابض ہو اس کی اور کردار یکسانیت پائی جاتی ہے قبضہ گیر قتل عام لوٹ مار تشدد تعلیمی نظام معاشی استحصال سماجی جبر مذہبی شدت پسندی گروہ واریت قبضہ گیر کے انتہائی موثر ہتھیار ہے جو قبضہ گیر بمہ وقت مقبوضہ خطے پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے اور لوٹ مار جاری رکھنے کی غرض سے استعمال کرتی رہتی ہے تاکہ نوآبادیاتی میں بسنے والے لوگوں کو امن جد وجہد کا خیال تک نہ آئے اور انکا یہ خیال اور جاہلیت کے دھندلکوں کے پیچھے غائب ہو جائے اور مقبوضہ ریاست کے لوگ اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ناانصافی کو مذہب کی مرضی سمجھ کر قبول کر لیں انہیں یہ سوچنے کا موقع تک نہیں دیا جاتا کہ مذہب کیونکر کسی کو غلام بنا دے کسی کی معیشت تعلیم کو انتہائی ترقی تو کسی کو سماجی نا برابری معاشی استحصال جاہلیت اور دو وقت کی روٹی محتاج بنا دے غلامی کے اندھیروں اور ظلم و جبر کے مسلسل خوف کی وجہ سے ایسے موٹے موٹے حقائق بھی غلام اقوام کو نظر نہیں آتے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ دشمن بھی اس باختگی کا شکار ہو اور بلوچ فرزندوں کو ڈرا دھمکا کر راہ راست سے دور کرنا چاہتا تھا لیکن اب بھی یہ وفا کے پیکر کہا پیچھے ہٹنے والے تھے غرض دشمن پر غیر انسانی عمل آزماتا رہا تشدد،اذیت، ٹارگٹ کلنگ،اغوا، ھراستی قتل وہ یہ سب غیر انسانی عمل بلوچ فرزندوں پر آزماتا رہا لیکن بلوچ نوجوانوں نے دشمن کی طرف سے کیے جانے والے ہر تشدد کو اپنے پر امن جد وجہد میں اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے قبول کیا اور خود کو ذہنی طور پر مزید مستحکم و مضبوط کرتے رہے تحاشا سروں کی قربانیوں کے بعد بھی پر امن جد وجہد کمزور ہونے کے بجائے مزید تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور قبضہ گیر اب بیک وقت مختلف مربے ازما کر نوجوانوں کے سامنے مشکلات کھڑی کرنا چاہتا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment