بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ لاپتہ افراد اورشہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے آج 4642 دن مکمل ہوگئے۔
سیاسی سماجی کارکن شاہ محمد بلوچ نذیر احمد بلوچ اور دیگر ہم خیال لوگوں نے کیمپ آکر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
وی بی ایم پی کے رہنما ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان پر تسلط برقرار رکھنے کے اپنی عدم دلیل کے باعث پاکستان کے حکمران دہشت پھیلانے والے ریاستی پالیسی پر گامزن ہے جس کا مظاہرہ براہِ راست فوجی کارروائیوں کے علاوہ سیاسی کارکنان طلباء بے گناہ نوجوانوں اور انسانی حقوق کے کارکنان سمیت بلوچ سماجی کے مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو ریاستی جبر کے اداروں کے ذریعے اٹھائے جانے میں دیکھا جاسکتا ہے اور انہیں ریاستی تحویل میں سفاکانہ تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کیا جاتا رہا ہے اب تک 53000 ہزار سے زائد بلوچوں کو لاپتہ کردیا گیا ہے اور سینکڑوں کی تعداد میں خواتین اور بچے بوڑھے بھی شامل ہیں،فورسز کی کارروائی کے نشانہ بھی بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح گزشتہ سالوں میں ریاستی جبر کے زریعے ہزاروں بلوچ شہید کیے جا چکے ہیں ریاست کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں اور شہادتوں کے یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک بلوچ قوم کی ایک فرزند عقوبت خانوں میں واپس نہیں آئیگا جب تک بلوچ قوم غلامی،محکومی کو دل سے تسلیم نہ کرے تاہم پر امن جد وجہد موجود شدت اور بلوچ قوم میں پائے جانے والے قربانی کے عزم،حوصلے کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ بلوچ قوم نوآبادیاتی ریاست کے مقتل سے گزر کر اپنی حقیقی نجات فرزندوں کی بازیابی کی صورت میں حاصل کرے گی البتہ نوآبادیاتی ریاستی کردار بلوچ سے اپنی منظم پر امن جد وجہد کے صورت میں متوازی ریاست کے تشکیل کا متقاضی ہے۔جو بلوچ سماج کے ہر شعبہ زندگی میں گہرائی کی حد تک سرائیت کرنے کی شکل میں ہی ممکن ہے یہ کام ایک پر امن جد وجہد کرنے والی تنظیم انجام دے سکتی ہیں جو نوآبادیاتی ریاست کی طاقت کا پر امن طریقے سے مقابلہ کرسکے ساتھ ساتھ سیاسی ثقافتی ادبی تعلیمی الیکٹرانک پرنٹ سوشل میڈیا سمیت مختلف اشکال کا بھرپور مقابلہ کرے جو ناممکن نہیں۔