بلوچ لاپتہ افراد کا احتجاجی کیمپ 4640 دنوں سے جاری

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے اب تک 4640 دن مکمل ہوگئے۔

قلات سے سیاسی سماجی کارکن بشیر احمد بلوچ،عبدلغفور بلوچ نے کیمپ آ کر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ اگر اقوام متحدہ اور دنیا کی قسمت کو بنانے اہر بگاڑنے والے زمینی عالمی طاقتوں کو ان کے کیے جانے والے دعووں اور زمین کی خلش ستاتی تو وہ بلوچوں کی پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی اجتماعی قبروں کی صورت میں برآمدگی جیسے سنگین جنگی جرائم پر خاموش تماشائی کا کردار ادا نہ کررہی ہوتی تو نہ لاپتہ بلوچوں لواحقین اپنے پیاروں کے بازیابی کیلئے دادو فریاد اور نگر نگر احتجاج کرنے کہ باوجود ملنے والی مایوسی کا شکار نہ ہوتے نو آبادیاتی جبر،استبداد کے خلاف جد وجہد میں آج حق وانصاف کے داعی بلوچ قوم سے شانے سے شانہ ملانے اور ان کی زخموں پر عملی یک جہتی اور ہمدردی کا مرہم رکھنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔

وی بی ایم پی کے بھوک ہڑتالی کیمپ جیسے انتہائی اقدام پر بھی اسلیے مجبور ہوئے کہ شاید اس اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دعویداروں کا ضمیر جاگ جائے اور وہ لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لیے پاکستانی حکمرانون قوتوں کو پر دباؤ ڈالے اور انسانی حقوق پامالی اور جنگی جرائم کے ریاستی عناصر کے خلاف بین الاقوامی قوانین اور تسلیم شدہ اصولوں کے تحت کارروائی عمل میں لائیں اور تمام سائل کی جڑ بلوچ قومی مسائل جبری لاپتہ بلوچوں کے لواحقین سمیت بلوچ قوم کی ان توقعات پر اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی قوانین کہاں تک پورا اترتی ہیں بہرحال اس توقع کے باوجود ان طاقتوں پر واضح ہونا ضروری ہے کہ اگر اقوام متحدہ سمیت اور دیگر بااختیار قوتیں خاموش اور بے حس بھی بنی رہیں پھر بھی بلوچ قوم نوآبادیاتی تسلط کے خاتمے اور لاپتہ افراد کی لواحقین کے پر امن جد وجہد کو کسی وقفے کے بغیر جاری رکھے گی جس کے لیے قربانیوں کی لازوال داستان بھی رقم کرتی رہے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment