بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسسنگ پرسنز کی جانب سے منعقدہ بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے 4638 دن مکمل ہوگئے۔
مستونگ سے سیاسی اور سماجی کارکنان عبد اللہ بلوچ شاہ محمد شاہوانی اور دیگر نے کیمپ آ کر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے مخاطب ہو کر کہا کہ بلوچستان میں ریاست کی زیادتیاں اب حد تک بڑھ چکی ہیں، حکمران جماعت کے کچھ ارکان بھی گمشدگیوں اور قتل میں ریاست کے ملوث ہونے کی مزمت کررہے ہیں، بلوچستان میں آگ 1948 میں اس کے جبری الحاق سے لگی اور اس کے بعد فوجی آپریشن اغوا قتل عام معزز شخصیات کو دھمکیاں اور اشتہال انگیز بیانات نے اس آگ کو ایندھن فراہم کیا۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچوں کو قتل کون کر رہا ہے بلوچ اپنے حقوق کے لیے اور فرزندوں کی بازیابی کے لیے پر امن جد وجہد کرنے والے کے خلاف زہر افشانی کی معمول کے الزامات اور اشاروں اور کنایوں میں بھارتی اور افغان حکومتوں کے ملوث ہونے کا الزام لگایا اور بلوچوں کو قصوروار ٹھہرایا یہاں تک کہ انہوں نے بلوچستان میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی دلچسپی پر بھی تنقید کی اسے روکنے کے لیے جسے وہ ایک سازش کے طور پر دیکھتے ہیں کہ اگر مزید طاقت کے استعمال کی وکالت کی تا ہم وہ یہ سمجھنے میں ناکام ہیں کہ اگر طاقت سے عوام کی خواہشات کو دبایا جا سکتا ہے تو اس پر اُ برادری کا راج ہوتا کہ جس نے سب سے پہلے خود کو ایک مُسلح گروہ کے طور پر منظم کیا تھا لیکن سماجی قوانین گروہوں اور افراد چکے طاقت کی پابند نہیں ہیں لوگ تو اتر کے ساتھ اس طوق کو تھوڑنے میں کامیاب رہتے ہیں جو کہ ان لوگوں کو اُمید بخشی ہے جو ظلم اور نا انصافی کے خلاف پر امن جد وجہد کرتے ہیں۔