بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ بلوچ لاپتہ افراد اور شہدا کے بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہے جسے اب تک 4632 دن ہوگئے۔
تربت سے سیاسی سماجی کارکن عبد القادر بلوچ، رضا محمد بلوچ اور دیگر نے کیمپ آ کر لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے مخاطب ہو کر کہا بلوچستان کے جبری قبضہ کو ایک ناجائز استعماری فعل ماننے کی جرات ہے اور نہ قومی جدوجہد کے لیے بلوچ عوام کی عظیم قربانیوں دانتھک کے پیچھے پختہ عزم اور بے پناہ تڑپ کو دیکھنے کی بصیرت ہے۔
بلوچستان کا مسئلہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ان کی استعماری ظالمانہ سوچ تمام پالیسیوں اور اقدامات کے باعث بلوچ عوام کے مصائب اور ان کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے بلوچ عوام پاکستانی ریاستی پالیسیوں و اقدامات کے باعث درپیش مصائب انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی قومی پرامن جد وجہد کی قیمت اور قربانی سمجھ کر بڑی بہادری سے ریاستی جبر کا مقابلہ کرتے آرہے ہیں بلوچ لاپتہ افراد کا مسئلہ بابت پالیسی ساز فیصلے کا اختیار دراصل پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے فیصلوں پالیسی اقدامات کی حمایت اور دفاع کرنے کے پابند ہے حتیٰ کہ بظاہر طاقت ور اور سرگرم پاکستانی اعلی عدلیہ کو بھی مقبوضہ بلوچستان میں بے لگام ریاستی دہشتگردی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں پر مارنے کی اجازت نہیں ہے بلوچستان میں امن و امان جبری لاپتہ افراد بلوچ فرزندوں کے مقدمے سپریم کورٹ کے ہائی کورٹ بلوچستان میں کئی سالوں ں کا کار آمد راہیوں سے اس بات کا مشاہدہ بخوبی کیا جا سکتا ہے جب معاملے کا اختیار ہی فوج کے پاس ہے نوظاہر سی بات ہے کہ فوج تو کوئی فوجی ہی حل ڈھونڈ لے گا۔