عظیم حریت پسند (شہید سلیمان جان)| زباد بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

حالیہ قومی آزادی کی جدوجہد میں اگر نظریں گھماکر دیکھیں تو بہت سے ایسے جانثار دیکھنے کو ملتے ہیں جن کی قربانیوں نے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ ان کا یہی نقوش آنے والوں کے لیے درکھولنے اور مستقبل بعید کے قومی ورثے ہیں۔ تاریخ کے مضمون کا بناوسنگھار ایسے ہی کردار کرتے چلے آرہے ہیں جس کی وجہ سے یہ مضمون دلچسپی کا سامان فراہم کرتا رہتا ہے۔
بات اگر قربانی کی ہو تو سب سے بڑی قربانی یہ ہے کہ کسی کامل انسان کو غلامی کا احساس ہو جائے، یہی احساس اسے کچھ منفرد کرنے کو ہمیشہ اکساتا رہتا ہے جس کی بدولت وہ سماج میں منفرد اہمیت کا حامل بن جاتا ہے۔ ایسی ہستیاں ہمیشہ یہ درس دیتے ہیں کہ قومی غلامی کے خلاف آزادی کے عظیم فلسفے سے خود کو بہرہ مند کریں، اور مقابلہ کیلئے میدان میں ہر وقت مستقل مزاجی سے ڈٹے رہیں۔

آج میں نے جب قلم اٹھایا تو ہزار بار سوچنے کے بعد خود کو قائل کیا کہ میں اس کی انفرادیت کو آئینے میں اتارنے کی کوشش کرونگا البتہ ممکن ہے کہ کم علمی کی وجہ سے انصاف کے تقاضے پوری نہ کرسکوں۔ کیوں کہ ایسی ہستیوں کے بارے میں جب ذہن میں خیالات مجتمح کیے جاتے ہیں تو یہ راز کھل جاتا ہے کہ میں جو سوچ رہا ہوں شاہد ان سوچوں کو قلمبند کرنے سے ابھی کوسوں دور ہوں۔ میں اس انسان کے کردار کے ساتھ قلم و زبان کے تقاضوں پر شاہد پورا نہ اُتر سکوں کیونکہ عظیم کردار کسی کی تعریف پزیری کے طلب گار نہیں، لیکن اپنی بساط کے مطابق کچھ جملے سفید کاغذ کی زینت بنانے کیلئے کمزور ہاتھوں کو حرکت دینے کی کوشش کرونگا۔
وہ عظیم حریت پسند کوئی اور نہیں مشکے کی مسحورکن ہواؤں میں جنم لینے اور اسی گکستان میں ابدی نیند سونے والا سلیمان عرف شہیک جان ہے۔ جنہوں نے حالیہ تحریک آزادی کے پیشوا ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ کے سایہ حریت میں پرورش پائی اور قومی جدوجہد کے سفر میں عظیم رہنما سے سیکھنے کا شرف و امتیاز حاصل کیا۔

شہیک جان ایک مستقل مزاج شخصیت کا مالک حریت پسند تھا۔ جنہوں نے ہزاروں انقلابیوں کی طرح دنیاوی خواہشات کو بالائے طاق رکھ کر قومی آزادی کی خاطر پہاڑوں کا رُخ کیا اور اپنی بہتر حکمت عملیوں کے ذریعے دشمن کے خلاف کئی محاذوں پہ کامیابی کے جھنڈے گھاڑتا ریا۔
اپنی دانشمندی سے دشمن کو ہرمحاذ پہ ناکوں چنے چھبوانے پہ مجبور کیا۔
شہیک جان ایک حقیقی رہنما تھا جو اس کے ملنسار رویوں سے ظاہر ہوتا تھا۔ مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے میں نے جب شہیک جان کو پہلی دفعہ دیکھا وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک کیمپ میں آئے تھے، یہ دوہزار چودہ (2014)کی بات ہے، ان سے یہ میری پہلی ملاقات تھی دیکھنے کے بعد ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں نے شہیک جان کا صرف نام نہیں سنا بلکہ اس عظیم باصلاحیت مہربان دوست سے سالوں پرانا رشتہ ہے، یہ اس کا رویہ ہے تھا جس نے خود کو میرے ذہن پہ نقش کردیا۔
ابھی ہم نے ساتھ میں ایک ہی دن گزرا تھا کہ کیمپ کے ذمہ دار نے شہیک جان سے کہا کہ کچھ دوست سفر پر جا رہے ہیں ہمیں ایک بندوق چائیے بعد میں آپ کا بندوق صیح و سلامت واپس کر دیں گے، میں بھی ساتھ بیٹھا تھا، شہیک جان نے بات سنتے ہی نرم گوئی سے جواب دیکر کہا جی واجہ آپ کا سایہ سلامت ہو اسلحہ بہت ہیں۔ اور اسی وقت شہیک جان نے اپنی بندوق اٹھا کر سامنے رکھا، ذمہ دار نے کہا نہیں نہیں، آپ اپنی بندوق اپنے ساتھ رکھے، کسی اور ساتھی سے کہنا اپنی بندوق لاکر دے، شہیک جان نے اپنے کسی اور ساتھی کو بلاکر کہا اپنی بندوق واجو جان کو دینا اور اس دوست نے اسی وقت بندوق اٹھا کر واجہ کے حوالے کیا۔۔۔ اسی وقت میں بھی مجلس سے اٹھ کر کہیں چلا گیا۔

بعد میں نے دیکھا تو شہیک جان کا بندوق اسی دوست کے کندوں پر تھا، اپنے ساتھ بیٹھے ایک دوست سے پوچھا یہ شہیک جان کا بندوق تو نہیں۔۔۔۔۔؟ اس نے جواب دیا کہ ہاں! اور بات کو جاری رکھتے ہوئے کہ شہیک جان نے اسی لیے اپنا اسلحہ اس ساتھی کے سپرد کردیا ہے تاکہ وہ دوست کیمپ میں خودکو تنہا محسوس نہ کرے اور دوست نے یہ بات بھی کہی کہ میں نے شہیک جان کو کیمپ کے ذمہ دار سے یہی کہتے بھی سنا۔
یہ شہیک جان کی دوراندیشی تھی کہ ایک ذمہ دار شخص کو ایسی چیزوں پر نظریں رکھنی ہوتی ہے، کیونکہ ہمارے یہی رویے پریشانی کی حالت میں کسی دوست کو حوصلہ عطا کرتا ہے۔ یہ جنگ حوصلوں کی جنگ ہے اس جنگ میں ہم ایک دوسرے کو احترام اور محبت دیکر ایک ساتھ چلتے ہیں، مشکلات اور تکالیف کو بانٹ کر ہم بہتر کرنے کی طرف راغب جاتے ہیں۔

شہیک جان ان صلاحیتوں سے لیس ایک عظیم جہدکار تھا، اسی طرح وقت کے ستارے گردشاں تھے، ایک میں تھا اور میری بد قسمتی کہ پھر شہیک جان کا دیدار نہیں ہوا۔

ایک دن یہ خبر آرہی تھی کہ مشکے کی طرف ایک بڑی جھڑپ کی اطلاعات ہیں، بعد میں معلوم ہوا اس دو بدو جھڑپ میں یذیدی لشکر کے کئی سپاہی مارے گئے ہیں اور شہیک جان اور اسکے ساتھیوں کی شہادت کی خبریں بھی گردش کر رہی تھی۔
بعد میں تنظیم کی طرف بیان جاری ہوا کہ "کمانڈر سلیمان عرف شہیک جان اپنے ساتھیوں سمیت سرزمین کے دفاع کی خاطر قربانی کے فلسفہ کو زندہ رکھتے شہید ہوگئے ہیں”

اور بعد میں شہید سلیمان عرف شہیک جان کا ویڈیو پیغام شائع ہوا، شہک جان کا یہ ویڈیو پیغام اُسی وقت ریکارڈ ہواتھا جب وہ زخمی حالت میں تھا۔ اُسے یقین تھا میری شہادت یقینی ہے لہذا وہ ایک رہمنا کا کردار ادا کرتا ہوا قوم کے حوصلوں کو مزید بلند کرنے کے قوم کے نام اپنا تاریخی پیغام ریکارڈ کروایا۔ وہ لمحات بھی کیسے ہوں گے جب سپاہی اپنے عظیم و بہادر کمانڈر کا آخری پیغام ریکارڈ کر رہے ہونگے۔۔۔۔ ان احساسات کو قلمبند کرنا ممکن نہیں۔

***

Share This Article
Leave a Comment