بلوچ جبری لاپتہ افراد اور شہداء کے بھوک ہڑتالی کیمپ کوئٹہ میں جاری ہے۔ کیمپ کو 4601 دن ہو گئے۔
اظہار یکجہتی کرنے والوں میں سمیع اللہ مندوخیل صدر اتحاد نوجوانان بلوچستان شامل ہیں۔
اس موقع پر وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے مخاطب ہو کر کہا کر پنجگور میں مختلف علاقوں میں کئی روز سے فوجی آپریشن زور شور سے جاری ہے، ابھی تک فورسز کئی بلوچ فرزندوں کو جبری لاپتہ کر چکا ہے، کچھ روز قبل آپریشن شروع ہونے سے پہلے پنجگور کے کئی قصبوں سے داخلی رستے بند کیے گئے۔
ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ وی بی ایم پی کئی سالوں سے جبری لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے ایک طویل پر امن جدوجہد کرتی آ رہی ہے، ہم ریاستی جبر کہ تمام داستان دستاویزات کی شکل میں رکھتے ہیں جنہیں دنیا کے سامنے پیش کریں گے، تاکہ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے بلوچستان میں ریاستی جبر کا اندازہ لگا لیں۔
عالمی اداروں کی وی بی ایم پی کے طویل پرامن جدوجہد پہ خاموشی سوالیہ نشان ہے، بلوچ وطن کے فرزند نظریاتی بنیاد پہ اصولی جدوجہد کر رہے ہیں وہ اتنے کمزور نہیں کہ ریاستی استبداد یا کسی پروپیگنڈے میں آجائیں۔