پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اتوار کی شام صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے آخری سیشن سے آن لائن خطاب کیا۔ مگر جیسے ہی نواز شریف نے اپنی تقریر شروع کی تو کچھ ہی دیر بعد اس نجی ہوٹل کے ہال میں انٹرنیٹ سروس اچانک معطل ہوگئی۔
بعد ازاں اس خطاب میں نواز شریف نے حکومت اور عدلیہ سمیت ریاستی اداروں کو آڑے ہاتھوں لیا اور الزام لگایا کہ ’من پسند ججوں سے اپنی مرضی کے فیصلے لیے جاتے ہیں۔‘
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسی کانفرنس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے عدلیہ پر دباؤ کے الزامات کی تردید کی تھی۔
اس کانفرنس میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار خدائے نور ناصر کے مطابق نواز شریف کا خطاب ’شام ساڑھے پانچ بجے شیڈول تھا مگر ساڑھے چار بجے کے بعد اس ہوٹل، جہاں یہ کانفرنس جاری تھی، میں تھری جی اور فور جی سروسز معطل ہوگئیں تھیں۔
عاصمہ جہانگیر کی بیٹی منیزے جہانگیر نے شرکا کو بتایا کہ انٹرنیٹ سروسز بند کر دی گئی ہیں۔ ’کسی طریقے سے یہ سروسز بحال کی گئیں مگر سابق وزیر اعظم نواز شریف کا خطاب شروع ہوتے ہی یہ سروسز ایک بار پھر معطل کر دی گئیں۔‘
اس موقع پر منیزے نے شرکا کو تسلی دی کہ ’ہم کوشش کرتے ہیں کہ انٹرنیٹ بحال ہو جائے‘ مگر دو منٹ بعد ہی منیزے نے اعلان کیا کہ ’تاروں کو کاٹ دیا گیا ہے۔‘
اس کانفرنس کے منتظم عاصمہ جہانگیر لیگل سیل نے اپنے ایک بیان میں ’ملک کے تین بار سابق وزیر اعظم کے خطاب کے دوران موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی معطلی‘ کی مذمت کی ہے۔
بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ نواز شریف کے خطاب کے دوران یہ سروسز معطل ہو گئیں تو پھر انٹرنیٹ پروائیڈر کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) سے پیغام موصول ہوا کہ یہ سروسز منقطع کر دیں۔
رابطہ کیے جانے کے باوجود پی ٹی اے نے اس دعوے پر ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔
خیال رہے کہ عاصمہ جہانگیر کانفرنس کا انعقاد پہلی بار سنہ 2018 میں اور دوسری بار سنہ 2019 میں بھی کیا گیا جبکہ گذشتہ برس کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے اس کا انعقاد ممکن نہیں ہو سکا تھا۔
جب انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں ہو سکی تو پھر ایسے میں کانفرنس کے منتظمین نے نواز شریف کا خطاب فون پر کرایا۔
خدائے نور ناصر کے مطابق ’جو جوش شرکا نے ویڈیو خطاب کے دوران نواز شریف کی تقریر پر دکھایا تھا وہ ولولہ اور جوش آڈیو تقریر کے دوران دیکھنے کو نہیں ملا۔‘
ان کے مطابق جتنی دیر یہ خطاب رُکا رہا، اس دوران پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رہنما فرحت اللہ بابر نے شرکا سے خطاب کیا اور سابق وزیر اعظم کے ساتھ اس سلوک کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ’ملک میں جاری سنگین آزادی اظہار رائے پر قدغنوں کی بدترین مثال ہے۔‘
عاصمہ جہانگیر لیگل سیل نے بھی اپنے بیان میں اسے اظہار رائے کی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
کچھ دیر بعد نوازشریف کا خطاب دوبارہ شروع ہوا جس میں انھوں نے کانفرنس کے انعقاد پر عاصمہ جہانگیر فاؤنڈیشن، سپریم کورٹ بار ایسوشی ایشن، پاکستان بار کونسل اور تمام منتظمین کو مبارکباد دینے اور عاصمہ جہانگیر کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کرنے کے بعد منتظمین کو کانفنرس کی سفارشات کی روشنی میں عملی تحریک شروع کرنے کی تجویز دی۔
نواز شریف نے کہا کہ ’آج 74 برسوں کے بعد قوم پھر سے سوال اٹھا رہی ہے اور ہمیں جواب درکار ہے۔ قوم کو جواب درکار ہے۔ یہ پاکستان کے 22 کروڑ عوام کو اس کا جواب درکار ہے۔ اور جب تک اس کا جواب نہیں ملے گا تو ہماری حالت نہیں سدھرے گی۔‘
انٹرنیٹ کی معطلی پر انھوں نے کہا کہ ’آج بھی زبان کھینچی گئی ہے ناں، تاریں وغیرہ کاٹ کر۔‘