سال 2011 میں طالبان نے کابل کے جس فائیو سٹار ہوٹل انٹر کوٹینینٹل کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا تھا اس کے نو سال بعد اسی فائیو سٹار ہوٹل میں طالبان کے خود کش حملہ آوروں کے خاندانوں کو مدعو کیا گیا اور ان میں رقم اور تحائف تقسیم کیے گئے۔
اس تقریب میں حقانی نیٹ ورک کے سربراہ اور امارات اسلامی کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی نے شرکت کی اور ان خودکش حملہ آوروں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ‘یہ ہمارے اور قوم کے ہیرو ہیں۔’
طالبان کی جانب سے ان خودکش حملہ آوروں کے خاندانوں کو دس ہزار افغانی روپے کے ساتھ ساتھ ایک پلاٹ دینے کا بھی وعدہ کیا گیا۔
اگرچہ جنگی حکمتی عملی میں خود کش حملہ آوروں کا استعمال کرنے والے افغان طالبان پہلا اور واحد گروپ نہیں ہیں اور جاپان سمیت دنیا کی مختلف افواج، عسکری اور شدت پسند گروپ دشمن قوتوں کے خلاف خودکش حملوں کا سہارا لیتے رہے ہیں لیکن طالبان کی جانب سے اپنے خود کش حملہ آوروں کی اس طرح کھلم کھلا حوصلہ افزائی نے جہاں بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا وہیں بہت سے لوگوں نے اس پر غم و غصے کا بھی اظہار کیا۔
اس غم و غصے کی اہم وجہ یہ تھی کہ ان خود کش حملوں میں ہلاک ہونے والے اکثر عام افغان شہری تھے اور یہ محض اتفاق نہیں کہ جس ہوٹل میں ان خودکش حملہ آوروں کو قوم کا ہیرو قرار دیا گیا اسی ہوٹل کو طالبان کی جانب سے ایک نہیں بلکہ دو بار خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا جس میں درجنوں افغان شہری ہلاک ہوئے۔
طالبان کی جانب سے اس تقریب کی تصویر جب سوشل میڈیا پر جاری کی گئیں تو اس پر بہت سے افغان شہریوں کا سخت رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ طالبان کی جانب سے خودکش حملہ آوروں کی ستائش اس لیے بھی تکلیف دہ ہے کیونکہ ان حملوں میں نشانہ بننے اور ہلاک ہونے ہولے صرف غیر ملکی افواج کے اہلکار نہیں تھے بلکہ بہت سے عام افغان شہریوں کی بھی اس میں ہلاکت ہوئی۔
تاہم یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ اقتدار میں آنے کے بعد طالبان کی جانب سے اپنے خودکش حملہ آوروں کو اس طرح سراہا گیا ہو۔ کابل پر قبضے کے بعد طالبان کے رہنما انس حقانی نے ایک خود کش حملہ آور کی قبر پر فاتح کی اور اس کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی جاری کیں۔
اس کے علاوہ طالبان کی جانب سے ایک ستائشی ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں طالبان کے لیے خودکش حملے کرنے والوں کی تصاویر اور نام تھے اور پھر طالبان سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایک ایسی بھی ویڈیو جاری کی گئی جس میں ان حملوں میں استعمال ہونے والی خودکش جیکیٹس کی نمائش کی گئی۔