حب میں میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج بلوچستان حکومت جس مقام پر پہنچی ہے یہ انکے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے بلوچستان میں عدم اعتماد کا فیصلہ پی ڈی ایم کا نہیں بلکہ بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن جماعتوں کا ہے کیونکہ موجودہ صوبائی حکومت نے اپوزیشن کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی ہے اپوزیشن رہنماؤں پر ٹینک چلائے گئے یہاں تک کہ موجود صوبائی حکومت نے منتخب عوامی نمائندوں کے بجائے غیرمتعلقہ افراد جو کونسلری کی سیٹ بھی نہیں جیت سکے انکو نوازہ ہے اس لیے بلوچستان حکومت کی تبدیلی کا فیصلہ پی ڈی ایم کا نہیں یہ بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن جماعتوں کا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس سیاسی بحران کا خود ذمہ دار حکمران ہیں کیونکہ گھر کو آگ گھر کے چراغ سے ہی لگتی ہے تو موجود سیاسی بحران حکمرانوں کی نااہلی اور کوتائیوں کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سردار اختر مینگل نے کہا کہ وزیر اعلی بلوچستان کے خلاف عدم اعتماد کا معاملہ صوبائی معاملہ ہے اس لیے ہم نے صوبے کو اختیار دیدیا ہے وہ جو بھی فیصلہ کریں اگر موقع ملا تو دھکا دینگے یا اگر کھینچنے کی ضرورت پڑی تو کھینچیں گے۔وزیر اعلی بلوچستان کو ہماری ضرورت نہیں وہ خود کفیل ہیں اگر وہ ہمارے دروازے پر آتے ہیں تو فیصلہ میرا ذاتی نہیں ہوسکتا جو پارٹی فیصلہ کریگی اتحادیوں کے ساتھ مل کر وہی ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی تحریک اپنے متعین سمت میں جارہی ہے ہمارے جلسوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پی ڈی ایم کو کتنی عوامی پذیرائی حاصل ہے البتہ کچھ ساتھی ہم سے روٹ کر الگ ہوگئے ہیں لیکن اسکے باوجود پی ڈی ایم اپنے موقف پر قائم ہے اور میرے خیال میں آنے والے پی ڈی ایم کے اجلاس میں بڑا سخت فیصلہ ہونے والا ہے کہ حکومت کو کس طرح ٹف ٹائم دینا ہے۔
حالیہ پنڈورا پیپرز کے حوالے سے سوال کے جواب میں سربراہ بی این پی سردار اختر مینگل نے کہا کہ اس پنڈورا بکس کو پہلے کھلنا چاہیے تھا حالیہ پنڈورا بکس میں جو اصل حکمرانوں کے نام آئے ہیں اب دیکھنا یہ ہے اس پنڈورا بکس کو مٹی ڈال کر ہمیشہ کی طرح ختم کیا جائے گا یا اسکو مزید کروچا جائے گا ہم سمجھتے ہیں کہ اس پنڈورا بکس کو مزید کروچ کر اس میں شامل اصل ذمہ داروں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا تو ایسے پنڈورا بکس نہیں بلکہ پورے ڈرم کھلتے جائیں گے۔