اقوامِ متحدہ کے اداروں نے افغانستان میں طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ بلاتاخیر لڑکیوں کے سیکنڈری سکول کھول دیں۔
یہ مطالبہ اُس دن سامنے آیا ہے جس دن لڑکوں نے سکول واپس جانا شروع کر دیا ہے۔ یونیسکو نے کہا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی اُن کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی اور اس سے افغانستان کی ترقی خطرے میں پڑنے کا خدشہ ہے۔
ادارے کا یہ بھی کہنا تھا کہ خواتین اساتذہ کو کام پر لوٹنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ یونیسیف نے بھی کہا ہے کہ اسے افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے مستقبل سے متعلق خدشات ہیں۔
اسی طرح برطانوی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن نے بھی افغان لڑکیوں کے لیے حقِ تعلیم کی حمایت کرتے ہوئے طالبان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اُنھیں سکول جانے کی اجازت دیں۔
واضح رہے کہ طالبان کی وزارتِ تعلیم نے لڑکوں کے سیکنڈری سکول کھولنے کا اعلان کیا ہے تاہم لڑکیوں کا ذکر نہیں کیا۔
افغانستان پر جب 1990 کی دہائی میں طالبان کی حکومت تھی تو اس وقت لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں ہوا کرتی تھی۔
افغانستان میں طالبان نے سیکنڈری سکولوں میں کلاسز کی بحالی کے لیے ایک بیان میں خواتین ٹیچروں اور طالبات کا ذکر نہیں کیا ہے۔ جبکہ اس میں صرف لڑکوں اور مرد ٹیچروں کو کلاسوں میں واپس آنے حکم دیا گیا ہے۔
بیان میں طلبا اور مرد اساتذہ کو مخاطب کیا گیا جبکہ سیکنڈری سکولوں میں لڑکیوں اور خواتین کے مستقبل پر بات نہیں کی گئی۔
اس میں کہا گیا ’تمام مرد ٹیچر اور طلبا تعلیمی اداروں میں آئیں۔‘ ایک افغان طالبہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سب کچھ بہت تاریک لگ رہا ہے۔‘
عام طور پر سیکنڈری سکول 13 سے 18 سال کے طلبہ کے لیے ہوتا ہے۔ افغانستان میں لڑکوں اور لڑکیوں کے سکول پہلے سے الگ ہیں جس سے اب طالبان کے لیے لڑکیوں کے سکول بند کرنا آسان ہوسکتا ہے۔
جمعے کو طالبان نے بظاہر خواتین کے امور کی وزارت کو بند کر دیا تھا اور اس کی جگہ امر بالمعروف والنہی عن المنکر‘ کا محکمہ کھول لیا ہے۔