بین الاقوامی مطالبات تسلیم نہ کرنے تک پاکستان طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے، امریکا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

امریکی وزیرِ خارجہ انٹونی بلنکن نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ تب تک طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے جب تک کہ طالبان بین الاقوامی مطالبات پورے نہیں کر دیتے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کانگریس کی اُمورِ خارجہ کمیٹی میں خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خارجہ بلنکن نے کہا کہ ’پاکستان سمیت تمام ممالک کو عالمی برادری کی اُن توقعات پر اصرار کرنا چاہیے جو اس نے طالبان سے تسلیم کیے جانے کے بدلے میں وابستہ کر رکھی ہیں۔‘

اُنھوں نے کہا کہ ترجیحات یہ ہیں کہ طالبان افغانستان چھوڑنے کے خواہشمند لوگوں کو ملک سے باہر جانے دیں، خواتین، لڑکیوں اور اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں، اور ملک کو دوبارہ ’دوسرے ملکوں کے لیے دہشتگردی کے خطرے‘ کا محفوظ ٹھکانہ نہ بننے دیں۔

’اس لیے پاکستان کو بین الاقوامی برادری کی وسیع اکثریت کے ساتھ مل کر ان مقاصد کے حصول اور ان توقعات کے پورا کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔‘

بلنکن نے کہا کہ ’کئی مواقع پر‘ پاکستان کی پالیسیاں ’ہمارے مفادات کو نقصان پہنچاتی رہی ہیں اور کچھ مواقع پر ان مفادات کی حمایت میں رہی ہیں۔‘

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’یہ وہ ملک ہے جو طالبان کے ارکان بشمول حقانیوں کو پناہ دینے میں شامل رہا ہے۔‘

واضح رہے کہ واشنگٹن کی جانب سے دہشتگرد قرار دیے گئے حقانی نیٹ ورک کے ارکان طالبان کی نئی کابینہ میں شامل ہیں۔

وزیرِ خارجہ بلنکن کے علاوہ بھی کئی کانگریس ارکان نے اس موقع پر پاکستان کے حوالے سے سخت مطالبات کیے۔ ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس خوکین کاسترو نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلام آباد کا ’نان نیٹو اتحادی‘ کا درجہ ختم کرنے پر غور کرے جس کے تحت پاکستان کو امریکی ہتھیاروں تک ترجیحی رسائی ملتی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment