اسلام آباد میں مارچ پر حملہ ”ریاست “نے کیا تھا،عورت مارچ منتظمین

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

اسلام آباد میں اتوار آٹھ مارچ کے روز عورت مارچ کے شرکاءپر مذہبی تنظیموں کے کارکنوں کے حملے میں پانچ افراد زخمی ہو گئے۔ مارچ کے منتظمین نے اسے ’ریاست کی طرف سے حملہ‘ قرار دیا۔

اتوار کو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد میں عوامی ورکرز پارٹی اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی طرف سے بعد دوپہر دو بجے نیشنل پریس کلب سے ایک ریلی نکالی جانا تھی۔ لیکن ریلی کی جگہ کے سامنے پہلے جامعہ حفصہ کی طالبات نے ایک ریلی نکالی اور بعد میں جے یو آئی ایف، کالعدم سپاہ صحابہ اور دوسری مذہبی تنظیموں کی طرف سے عورت مارچ کے مقابلے میں ایک ریلی نکالی گئی۔

مذہبی نتظیموں کی طرف سے نکالی جانے والی ریلیوں میں انتہائی اشتعال انگیز زبان استعمال کی گئی اور عورت مارچ میں شرکت کرنے والی خواتین اور مردوں کو بے غیرت اور مغرب زدہ بھی قرار دیا گیا۔ مذہبی تنظیموں نے اس ریلی کا نام ‘حیا مارچ‘ رکھا تھا جب کہ عورت مارچ کے منتظمین نے اپنے مارچ کو ‘عورت آزادی مارچ‘ کا نام دیا تھا۔ عورت مارچ ریلی دو بجے شروع ہونا تھی لیکن جامعہ حفصہ کی طرف سے پریس کلب کے بائیں جانب ایک ریلی نکالنے کی وجہ سے عورت مارچ کے منتظمین نے اپنی ریلی تین بجے کے بعد نکالی تاکہ کوئی تصادم نہ ہو۔

لیکن تین بجے کے بعد پریس کلب کے بائیں جانب جے یو آئی ایف، کالعدم سپاہ صحابہ اور مدارس کے طلبا و طالبات نے بھی ایک ریلی نکالی۔ انہوں نے اپنی تنظیموں کے نام استعمال کرنے کے بجائے اپنے بینروں اور پلے کارڈز پر ‘سول سوسائٹی اور علماء‘ لکھا ہوا تھا۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری نفری بھی وہاں موجود تھی اور پولیس نے پریس کلب والی سڑک پر ٹینٹ لگا کر دونوں ریلیوں کے شرکائ اور ان کے راستوں کو الگ الگ کر رکھا تھا۔ تاہم لاو¿ڈ اسپیکرز کی زور دار آواز کی وجہ سے اطراف کی تقریریں صاف سنائی دے رہی تھیں۔

جب عورت مارچ کی ریلی سوا تین بجے کے بعد وہاں پہنچی تو اطراف سے زور دار نعرے بازی شروع ہوگئی۔ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباًپونے چھ بجے کے قریب جب مذہبی تنظیموں کی ریلی ختم ہونے کو تھی، تو اچانک مذہبی تنظیموں کی ریلی والی جگہ سے عورت مارچ کے شرکاءپر پتھراو¿ شروع ہوگیا، جس کے نتیجے میں چھ افراد زخمی ہو گئے۔

مذہبی تنظیموں کی ریلی نے اس کے بعد ڈی چوک کا رخ کیا جبکہ عورت مارچ کے شرکاءنے اس موقع پر ‘ملا گردی نہیں چلے گی، دہشت گردی نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے لگائے اور بعد میں ریلی کے شرکاءمسٹر بک والی سڑک کی طرف چل دیے۔ تاہم انتظامیہ نے اس موقع پر ریلی کو آگے جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ جس پر عوامی ورکرز پارٹی کی رہنما عصمت شاہ جہاں نے انتظامیہ کو متبنہ کیا کہ اگر رکاوٹیں نہ ہٹائی گئیں، تو وہ اور ان کے ساتھی پارٹی کارکن انہیں خود ہٹا دیں گے۔ ان کا کہنا تھا، ”یہ صرف ملاو¿ں کی طرف سے اس ممارچ پر حملہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست کی طرف سے ہم پر حملہ ہے۔ پولیس اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ ریلی کی اجازت صرف ہمیں ملی ہے لیکن ملاو¿ں نے غیر قانونی طور پر ریلیاں نکالیں اور انتظامیہ نے نہ انہیں اس غیر قانونی کام سے روکا اور نہ ہی ان کی طرف سے حملے کو۔“

عوامی ورکرز پارٹی کے ایک اور مرکزی رہنما فرمان علی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”آج حکومت کے ان تمام دعووں کی قلعی کھل گئی، جن میں یہ کہا گیا تھا کہ وہ انتہا پسندوں اور عسکریت پسندوں کے خلاف ہے۔ آج انتہا پسندوں نے پر امن مردوں، خواتین اور بچوں کے اجتماع پر حملہ کیا۔ ریاست انہیں روکنے میں بالکل ناکام رہی۔ یہ ملا پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے لیکن ان بزدلانہ کارروائیوں سے ہمارے حوصلہ پست نہیں ہوں گے۔“

دوسری طرف جے یو آئی ایف کے رہنما عبدالمجید ہزاروی نے اس الزام کی تردید کی کہ ان کی پارٹی کی طرف سے کسی قسم کا پتھراو¿کیا گیا۔ کالعدم سپاہ صحابہ جو اب جمعیت اہلسنت والجماعت کے نام سے کام کر رہی ہے، کا دعویٰ ہے کہ اس تنظیم اور دیگر مذہبی تنظیموں کی طرف سے نکالے جانے والے حیا مارچ پر عورت مارچ کے شرکاءنے پتھراو¿ کیا، جس سے ان کے دوکارکنان زخمی ہو گئے، جنہیں پولی کلینک میں داخل کرایا گیا ہے۔

اس تنظیم کے ایک مقامی رہنما محمد یاسر قاسمی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہم ریلی کے اختتام سے پہلے دعا پڑھ رہے تھے کہ عورت مارچ کے شرکاءنے اشتعال انگیز نعرے لگائے اور طالبات کو گالیاں دی گئیں، جس کے بعد صورت حال کشیدہ ہو گئی اور انہوں نے پتھراو¿ شروع کر دیا، جس سے ہمارے دوکارکن زخمی ہو گئے۔“

ماضی میں لال مسجد سے منسلک شہداءفاو¿نڈیشن کے ترجمان حافظ احتشام کا دعویٰ ہے کہ حیا مارچ کے پندرہ شرکا پتھراو¿ سے زخمی ہوئے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران اسلام آباد کی انتظامیہ چین کی بانسری بجاتی رہی۔

جب ڈی ڈبلیو نے پولیس کنٹرول اسلام آباد سے رابطہ کیا، تو ڈیوٹی پر موجود ایک اہلکار نے بتایا کہ کسی طرح کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ہے اور نہ ہی کوئی زخمی ہوا ہے۔ اس اہلکار نے اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا، ”جامعہ حفصہ اور مذہبی تنظیموں کے کارکنان کا مارچ ختم ہو گیا ہے اور وہ بحفاظت اپنے مقامات پر پہنچ گئے ہیں جب کہ عورت مارچ پر امن طور پر جاری ہے۔“ غروب آفتاب سے کچھ دیر پہلے عورت مارچ کے شرکاءکو مسٹر بک والی سڑک پر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

Share This Article
Leave a Comment