افغانستان میں میڈیا اور اقوام متحدہ میں کام کرنے والے افغانوں کے خلاف تشدد اور ہراساں کرنے کے واقعات کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مقامی عملے کو ہراساں کرنے اور دھمکانے کے بارے میں بہت پریشان ہے۔
افغان صحافیوں پر بھی حملے ہو رہے ہیں۔
طالبان شدت پسندوں نے ایک اخبار کے دو رپورٹروں کو الیکٹرک کیبلز سے باندھا اور کوڑوں سے بری طرح پیٹا۔
دیگر صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں حراست میں لیا گیا اور متعدد بار تھپڑ مارے گئے اور ان کا سامان ضبط کر لیا گیا۔
یہ وہ افغان صحافی ہیں جو ملک کے مختلف شہروں میں جاری مظاہروں کی کوریج کر رہے تھے۔
افغان خبر رساں ادارے ’اطلاعات روز‘ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز اس کے پانچ صحافیوں کو حراست میں لیا گیا اور ان میں سے دو کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
’اطلاعات روز‘ کے ایڈیٹر ذکی دریابی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ان دو صحافیوں کی تصاویر اور ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں، جنھیں طالبان نے تشدد کا نشانہ بنایا۔