فنڈز روکنے سے افغانستان میں شدید کساد بازاری، بھوک و غربت ہوگی،اقوامِ متحدہ

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

اقوام متحدہ کے ایک سینئر عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ افغان حکومت کے لیے اربوں ڈالر کی غیر ملکی فنڈنگ روکنے سے شدید کساد بازاری اور ملک بھر میں بھوک اور غربت میں ریکارڈ اضافہ ہو سکتا ہے۔

ساتھ ہی اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر موجودہ بحران حل نہ ہوا تو افغانستان کی تقریباً 97 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے آسکتی ہے۔

’معیشت اور معاشرتی نظام کے مکمل خاتمے کو روکنے کے لیے‘ افغانستان کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی ڈیبورا لائنز نے جمعرات کو مندوبین سے کہا کہ امداد کی رقم افغانستان بھیجی جائے لیکن ساتھ ہی اس بات کی بھی ضمانت دی جائے کہ طالبان اس کا غلط استعمال نہ کریں۔

ڈیبورا لیونز نے مزید کہا کہ افغانستان کو ’کئی نسلیں پیچھے جانے کا خطرہ ہے۔‘

انھوں نے کہا ’افغانستان کی معیشت کو کچھ مزید مہینوں تک سنبھلنے کی اجازت دی جانی چاہیے اور طالبان کو موقع دیا جانا چاہیے کہ وہ حقیقی لچک اور عزم ظاہر کریں، خاص طور پر انسانی حقوق کے حوالے سے۔‘

امریکہ نے طالبان کے عروج کے بعد افغان حکومت کے تقریباً 9 ارب ڈالر کے غیر ملکی اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے (جنھوں نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا) فنڈز جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے اصرار کیا ہے کہ وہ طالبان پر عائد پابندیوں کو کم نہیں کرے گا اور نہ ہی اسلامی گروہوں کی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی پر پابندیاں ختم کرے گا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے افغان حکومت کے خاتمے کے بعد سے تقریباً 440 ملین ڈالر تک طالبان تک رسائی روک دی ہے۔

جمعرات کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں سینئر امریکی سفارت کار جیفری ڈیلورینٹیس نے کہا کہ طالبان بین الاقوامی جواز اور حمایت کے خواہاں ہیں۔ ہمارا پیغام آسان ہے: کوئی بھی جواز اور حمایت حاصل کی جانی چاہیے۔

سلامتی کونسل کے دو مستقل ارکان روس اور چین نے افغان حکومت پر طاقت استعمال کرنے یا پابندیاں عائد کرنے کی مخالفت کی ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment