امریکا،برطانیہ ویورپی یونین کاافغانستان میں طالبان حکومت تسلیم نہ کرنیکا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

امریکہ کے بعد اب یورپی یونین اور برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ بھی افغان طالبان سے رابطے کریں گے مگر افغانستان میں ان کی نئی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ وہ افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے۔

یورپی یونین کے خارجی امور کے سربراہ نے کہا ہے کہ افغان طالبان سے کسی بھی طرح کے رابطے ’سخت شرائط کی بنا پر کیے جائیں گے‘ اور صرف افغان شہریوں کی حمایت کی جائے گی۔

واشنگٹن اور برطانیہ نے بھی اسی طرح کا موقف اختیار کیا ہے جبکہ روس اور چین نے طالبان کے معاملے پر نرم لہجہ اختیار کیا ہے۔

یورپی یونین نے کہا ہے کہ غیر ملکیوں کے انخلا کے لیے یورپی یونین کابل میں ایک مشترکہ اثر و رسوخ کے لیے طالبان سے رابطے کرے گا اور یہ کوشش کی جائے گی کہ نئی افغان حکومت سلامتی اور انسانی حقوق سمیت اپنے دیگر وعدے پورے کریں۔

سلووینیا میں وزرا خارجہ کے اجلاس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے تعاون کے ساتھ مسئلے پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔۔۔ اگر سکیورٹی کی شرائط پوری کی جاتی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے معاملے پر یورپی یونین امریکہ، جی سیون، جی ٹوئنٹی اور دیگر تنظیموں سے رابطے کرے گا۔ ان کے مطابق افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ’علاقائی سطح پر سیاسی تعاون کے لیے ایک پلیٹ فارم‘ کا آغاز کیا جائے گا۔

برطانوی وزیرِ خارجہ ڈومینک راب نے کہا ہے کہ برطانیہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا لیکن وہ ان سے بات چیت کے راستے کھلے رکھے گا۔

دورۃ پاکستان کے دوران پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ کوئی نہیں چاہتا کہ افغانستان اقتصادی اور سماجی طور پر تباہ ہو اس لیے برطانیہ امدادی اداروں کے ذریعے امداد بھیجتا رہے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کے معاملے میں ’پاکستان کی مدد اور کردار کلیدی ہو گا اور افغانستان کے ایک مستحکم اور پرامن مستقبل کے لیے ہمارے عزائم مشترکہ ہیں۔‘

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment