طالبان نے کہا ہے کہ اُنھیں افغانستان کی تعمیرِ نو کے لیے ترکی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
طالبان ترجمان سہیل شاہین نے ترکی کے ایک حکومت نواز اخبار سے بات کرتے ہوئے کہا: ’ہمارا پورا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے۔
ہم افغانستان کی تعمیرِ نو کریں گے اور ہر علاقے کو نئے سرے سے استوار کریں گے۔ ہمیں اس معاملے میں ترکی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔‘
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’ترکی ہمارے لیے بہت اہم ہے۔ یہ ایک باعزت اور مضبوط عالمی ملک ہے اور اسلامی برادری میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ ترکی اور افغانستان کے تعلقات کا موازنہ کسی اور ملک سے نہیں کیا جا سکتا۔‘
اس سے قبل سہیل شاہین ایک اور ترک حکومت نواز نیوز چینل پر ترکی کو ایک ’برادر اسلامی ملک‘ قرار دے چکے ہیں۔ کابل پر قبضے کے صرف ایک دن بعد سولہ اگست کو اس گفتگو میں اُنھوں نے کہا تھا کہ وہ مستقبل میں ترکی کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
جمعے کو ترک صدر رجب طیب اردوگان نے میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکی طالبان سے بات کر سکتا ہے۔
’اگر ضرورت پڑی تو ہم طالبان سے بات کر سکتے ہیں۔ ہمارا دروازہ جب بھی بجایا گیا، ہم دروازہ کھولیں گے۔‘