افغانستان میں نئی حکومت کی شکل جلد واضح ہوگی، طالبان

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

افغان حکومتی عہدیداروں کے فرار کے بعد صدارتی محل کا کنٹرول طالبان نے سنبھال لیا اور اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں جنگ ختم ہوچکی ہے۔

خبررساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق اتوار کے روز کابل میں تیز ترین پیش رفتوں، خوف اور افراتفری کا ماحول رہا جس کے بعد بالآخر رات گئے بھاری ہتھیاروں سے مسلح شدت پسندوں نے خالی صدارتی محل کا کنٹرول سنبھال لیا۔

اس دوران مغربی ممالک اپنے شہریوں کو افغانستان سے نکالنے میں مصروف رہے جبکہ سیکڑوں افغان شہری بھی ملک چھوڑنے کے لیے کابل ایئر پورٹ پہنچے۔

طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ گروہ تنہائی میں نہیں رہنا چاہتے اور افغانستان کی نئی حکومت کی شکل جلد واضح ہوگی۔

ساتھ ہی محمد نعیم نے پر امن بین الاقوامی تعلقات رکھنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ ’خدا کا شکر ہے کہ ملک میں جنگ ختم ہوچکی ہے‘۔

طالبان رہنما کا کہنا تھا کہ ’ہم جو حاصل کرنا چاہ رہے تھے اس تک پہنچ گئے جو کہ ہمارے ملک اور عوام کی آزادی ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہم اپنے سرزمین کو کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور نہ ہی دوسروں کو نقصان پہنچائیں گے۔

طالبان کے ذرائع کے مطابق کابل میں مذاکرات کے بعد صدر غنی نے استعفیٰ دے دیا ہے جسے منظور کر لیا گیا ہے۔

طالبان نے مزید بتایا ہے کہ افغان رہنما اور عمائدین قطر کے دارالحکومت دوحہ جائیں گے جہاں طالبان کو اقتدار کی منتقلی کا عمل طے پائے گا۔

واضح رہے کہ افغان صدارتی محل کی جانب سے اب تک فوری طور پر اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment