بلوچستان میں اپوزیشن جماعتوں نے مجوزہ ترقیاتی منصوبے میں بجٹ کا حصہ نہ بنانے پر اسے حکومتی نااہلی قرار دیا اور کوئٹہ، چاغی، واشک، خاران اور نوشکی سمیت بلوچستان کے متعدد شہروں اور قصبوں سے گزرنے والی قومی شاہراہوں کو بلاک کردیا۔
بلوچستان کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا۔
بلوچستان اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ اگر ان کے مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کو صوبائی بجٹ میں شامل نہ کیا گیا تو اسمبلی کی عمارت کا محاصرہ کرلیں گے اور کسی بھی رکن صوبائی اسمبلی کو عمارت میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیں گے۔
حزب اختلاف کے رہنماؤں کا گزشتہ تین روز سے بلوچستان اسمبلی کے باہر دھرنا جاری ہے۔
ایڈووکیٹ ملک سکندر نے کہا،کہ ہمارا دھرنا 24 گھنٹے رہتا ہے۔
ملک سکندر آئندہ بجٹ میں حزب اختلاف کی ترقیاتی اسکیموں کو اہمیت نہ دینے پر حکومت کے خلاف احتجاج کی قیادت کررہے تھے۔
دریں اثنا جمعیت علمائے اسلام (ف) کے بلوچستان کے امیر اور ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الوسیع نے اپوزیشن جماعتوں کے احتجاجی کیمپ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے حامیوں، سول سوسائٹی کے ممبران، تاجروں اور دیگر لوگوں کو بلڈنگ میں وزرا اور ایم پی اے کے داخلے کو روکنے کے لیے بلوچستان اسمبلی کے باہر جمع ہونے کی درخواست کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو بجٹ پیش کرنے کی اجازت نہیں دیں گے جو مرکزی اپوزیشن جماعتوں کی مشاورت کے بغیر تیار کیا گیا ہے۔
بعدالوسیع نے مزید کہا کہ ڈیولپمنٹ سے متعلق منصوں میں ان کی مجوزہ ترقیاتی اسکیموں کو نظرانداز کردیا۔
مولانا عبدالواسع نے اتحادی حکومت سے اتفاق رائے سے بجٹ بنانے کے لیے کم سے کم 5 دن کے لیے بجٹ ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا۔
دریں اثنا اپوزیشن جماعتوں کے کارکنوں بشمول بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی۔ مینگل)، پختون خواہ ملی عوامی پارٹی (پی کے ایم اے پی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی- ف) نے اپنی جماعتوں کی کال پر کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو صنعتی راستے بند کردیے۔