ڈاکٹر دین محمد کے جبری گمشدگی کے 12 سال: بی این ایم مختلف ممالک میں مظاہرہ کرئے گی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے سابق سینٹرل کمیٹی کے ممبر ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی 12 سالہ طویل جبری گمشدگی کے خلاف بلوچ نیشنل موومنٹ مختلف ممالک میں احتجاجی مظاہرہ کرئے گی۔

بی این ایم گوٹنگن جرمنی، 19 جون کو ڈاکٹر دین محمد کی جبری گمشدگی کے خلاف مظاہرہ کرئے گی۔مظاہرے میں آواران میں خودکشی پر مجبور کیے جانے والے شہید نورجان ہارون کے مسئلے کو بھی اجاگر کیا جائے گا۔جبکہ اگلے دن 20 جون کو 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ پر واقع برطانوی وزیر اعظم کے گھر کے سامنے بی این ایم رہنماء کی گمشدگی کے مسئلے پر مظاہرہ ہوگا۔

اسی سلسلے میں 26 جون کو تشدد سے متاثرین کی حمایت کے عالمی دن کے موقع پر ڈاکٹر دین محمد کی جبری گمشدگی کے حوالے سے بی این ایم نیدر لینڈ نے بھی مظاہرے کا اعلان کیا ہے۔

بلوچ نینشل موومنٹ کے رہنماء ڈاکٹر دین محمد بلوچ کو 28 جون 2009 کو اورناچ ضلع خضدار کے سرکاری ہسپتال سے فوجی اہلکاروں نے اغوا کے بعد جبری لاپتہ کیا ہے۔بی این ایم ایک پرامن غیرپارلیمانی سیاسی جماعت ہے جو بلوچستان کی آزادی کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔بی این ایم کے بیشتر بانی اراکین اور قائدین بشمول پارٹی کے بانی صدر غلام محمد بلوچ کو پاکستانی فوج نے جبری گمشدگی کے بعد قتل کیا علاوہ ازیں کئی سینٹرل کمیٹی کے ممبران اور ریجنل سربراہان کو بھی پاکستانی فوج نے قتل کیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment