پسنی پریس کلب کے سابق صدر اور سینئر صحافی جاوید سعید کی والدہ ماجدہ بی بی مریم منگل کو انتقال کرگئیں۔ اور کل شام پسنی میں درجنوں سوگواروں کی موجودگی مین ان کی تدفین کردی گئی۔
جاوید سعید نے بلوچستان کے نامور روزنامہ ”توار“ میں بطور ایڈیٹرتین سال تک خدمات سرانجام دیئے اور بطورایک ذمہ دار صحافی کے بلوچستان کا مقدمہ لڑکراس کے منفی پہلوؤں کی اجاگرکرتارہا۔
بلوچ نیشنل موؤمنٹ کے رہنما اور لکھاری قاضی ریحان داد نے تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ
پیارے دوست جاوید سعید کی والدہ کی وفات کا سن کر دلی صدمہ پہنچا۔جلاوطنی اپنے آپ میں ایک مشکل اور کربناک صورتحال ہے ایسے میں اپنے قریبی عزیز بالخصوص والدین کی جدائی کا غم بہت سخت ہے لیکن نظریاتی لوگوں کو ہمیشہ مشکل حالات کا سامنا رہا ہے جس کا انھوں نے ہمیشہ مقابلہ کیا اور سرخرو رہے ہیں۔
میں دکھ کی اس گھڑی میں اپنے دوست اور ان کے خاندان کے غم میں شریک ہوں۔ تمنا ہے کہ اماں مریم کی یادیں ہمیشہ ان کے لواحقین اور پسماندگان کے لیے زندہ رہیں۔
بلوچ نیشنل موؤمنٹ ڈسپورا کمیٹی کے آرگنائز ڈاکٹر نسیم بلوچ نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا ہے کہ
جاوید سعید بلوچ کی والدہ کے انتقال کی خبر سن کر مجھے بہت دکھ ہوا۔ اللہ انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق دے۔ جاوید سعید ایک اچھے لکھاری، صحافی اور ایک دوست اور اچھے انسان ہیں۔ دوسرے بلوچ صحافیوں کی طرح انہیں بھی مختلف مصیبتیں کا سامنا ہے اور علاقہ سے دور رہنے پر مجبور ہے۔
سنگر میڈیا ہاوس کے چیف ایڈیٹر دوستین بلوچ نے ان سے تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاوید سعید کی علمی،ادبی خدمات بلوچ قومی تاریخ کا حصہ ہیں اور میں دکھ کے اس لمحے میں انکے اور انکے خاندان کے ساتھ ہوں۔
کل جاوید سعید نے ٹیوٹر پر ایک ٹیوٹ میں لکھا تھا کہ
ایک سایہ، ایک بے غرض رشتہ اور بے لوث محبتوں کامجموعہ میری ماں مریم سعیدجو ہمیشہ کیلئے مجھ سے بچھڑ گیا۔
جس کی ٹھنڈی چھاؤں، بے لوث محبتوں اورنیک دعاؤں سے اب میں ہمیشہ کیلئے محروم ہوگیا۔اس کی دعائیں میری جلا وطنی کی کرب کو ہمیشہ کم کرتی رہی۔لیکن اب اس میں شدت کی آئے گی۔
واضح رہے کہ جاوید سعید کی والدہ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے منگل کے روز پسنی میں انتقال کر گئی تھیں،ان کی عمرقریباً 70سال تھی اور وہ گذشتہ پانچ سالوں سے گھٹنوں کی بیماری میں مبتلا تھیں اور پیراں سالی کے باعث رواں سال وہ مراض قلب کی کمزوری کی وجہ سے کراچی میں زیر علاج رہیں۔لیکن پیران سالی اورکمزوری کی وجہ سے وہ علیل رہے۔