نو عمر بلوچ ایک بار پھر پاکستانی فورسز ہاتھوں اغوا

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستانی فوج نے نو عمر طلال دوست محمد بلوچ کو حراست بعد لاپتہ کر دیا۔

ضلع کیچ باپ اور بیٹے کو قتل کرنے کے باوجود پاکستانی فوج نوعمر طلال دوست کی جان چھوڑنے کو تیار نہیں پہلی مرتبہ سنہ 2019 کو جبری گمشدہ کیا گیا اور اب 23 مئی سے جبری لاپتہ ہیں۔

طلال ولد چیئرمین دوست محمد کو 23 مئی 2021 کی رات کو ان کے گھر واقع گومازی، تحصیل تمپ ضلع کیچ سے پاکستانی فوجی اہلکاروں نے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کیا۔ طلال کے ساتھ دیگر 9 افراد کو بھی جبری لاپتہ کیا گیا جنھیں بعد میں رہا کیا گیا لیکن طلال سمیت تین افراد تاحال جبری لاپتہ ہیں۔ان کے لواحقین جب ان کی رہائی کے لیے متعلقہ حکام سے بات کرتے ہیں تو انھیں جھوٹے وعدے دیکھ کہا جاتا ہے کہ انھیں کل رہا کیا جائے گا لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود ان کی رہائی عمل میں نہیں آسکی۔

علاقائی ذرائع نے کہا ہے کہ طلال آٹھویں کلاس کا طالب علم ہے اور کسی بھی قسم کی ایسی سرگرمی سے وابستہ نہیں جو ریاست یا پاکستانی فوج کے لیے ناپسندیدہ ہو لیکن اس کے باوجود انھیں مسلسل نشانہ بنا کر ذہنی اور جسمانی ٹارچر کیا جا رہا ہے۔ 5 مئی سنہ 2019 کو انھیں کراچی سے جبری لاپتہ کیا گیا اور ایک مہینے ٹارچر سیل میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا، طلال کراچی میں زیر تعلیم تھے۔ جبری گمشدہ کیے جانے کے بعد طلال تعلیم ادھوری چھوڑ کر گاؤں واپس آگیا اب یہاں بھی اسے فوجی تشدد کا سامنا ہے۔

طلال کے والد چیئرمین دوست محمد جو ایک مقامی سیاسی رہنماء تھے انھیں 22 مئی 2017 کو تربت سے کراچی جاتے ہوئے ایم آئی اہلکاروں نے بس سے اتار کر جبری لاپتہ کیا اور تین دن بعد کنچتی دشت میں ان کی تشد زدہ لاش پھینک دی گئی۔ چیئرمین دوست محمد کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ماضی میں پارلیمانی جماعت بی این پی عوامی میں بھی شامل رہے لیکن جب انھیں پاکستان کی ملٹری انٹلی جنس نے اغوا کرکے قتل کیا تب وہ کسی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں تھے۔

چیئرمین دوست محمد کے قتل کے چند مہینے پہلے ان کے بیٹے طاہر دوست کو بھی گومازی کے ہسپتال میں دوران ڈیوٹی نشانہ بنا کر قتل کیا گیا تھا طاہر دوست محمد چیئرمین دوست محمد کے بڑے بیٹے اور اپنے گھر کے کفیل تھے۔

Share This Article
Leave a Comment