بلوچستان کے کٹھ پتلی وزیرداخلہ ضیا لانگو نے خبر رساں اداروں سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ دس ایف سی اہلکاروں کی میتیں کوئٹہ کے کمبائنڈ ملٹری ہسپتال پہنچادی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ حملے میں سات ایف سی اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں سی ایم ایچ میں داخل کردیا گیا۔
ان کے مطابق زخمیوں میں ایک اہلکار کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
سیکورٹی حکام ذرائع کے مطابق یہ حملہ پیر کی شام کو کوئٹہ کے مشرق میں تقریباً 70 کلومیٹر دور بولان کے علاقے مارواڑ کے قریب پیر اسماعیل زیارت کے مقام پر فرنٹیئر کور بلوچستان غازہ بند سکاؤٹس 129 ونگ کی اویس چیک پوسٹ پر کیا گیا تھا۔
ضیا لانگو کا کہنا تھا کہ ایف سی کے جوانوں نے بھر پور مقابلہ کیا۔ جوابی کارروائی اور اس کے بعد کیے گئے آپریشن میں بھی کئی حملہ آور مارے گئے۔
جبکہ کوئٹہ میں تعینات سکیورٹی فورسز کے ایک سینیئر آفیسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا کہ جدید ہتھیاروں سے لیس بیس سے زائد حملہ آوروں نے چیک پوسٹ کو مختلف اطراف سے گھیرے میں لے کر حملہ کیا۔ انہوں نے کلاشنکوف، سنائپر بندوقوں اور دیگر چھوٹے ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کی۔
سکیورٹی آفیسر کے مطابق چیک پوسٹ پر اس وقت 25 اہلکار موجود تھے جنہوں نے کئی گھنٹوں تک مقابلہ کیا۔ فائرنگ کی زد میں آکر پوسٹ کمانڈر نائب صوبیدار اعجاز علی سمیت دس اہلکار ہلاک اور سات زخمی ہوئے جبکہ چھ محفوظ رہے۔