اٹھائیس مئی: پاکستان نے بلوچ سرزمین پر تجربہ نہیں ایٹمی حملہ کیا۔ بی این ایم

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

بلوچ نیشنل موومنٹ کے ترجمان نے کہا ہے کہ 28 مئی 1998 کو پاکستان نے بلوچ سرزمین پر ایٹمی تجربہ نہیں بلکہ ایٹمی حملہ کرکے انسانیت کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔ ایٹمی حملوں کے اثرات آج تک بلوچ سرزمین پر تباہی مچا رہے ہیں۔ ایٹمی تجربوں کے نام پر ایک مقبوضہ سرزمین کا انتخاب اس بات کی دلیل ہے کہ ہم پر جوہری بموں سے حملہ کیا گیا ہے۔  

ترجمان نے کہا کہ بلوچستان ایک مقبوضہ سرزمین ہے اور اس کی حیثیت محض ایک کالونی اور بلوچ کی حیثیت ایک غلام کی ہے۔ اس سے بڑھ کر اسکا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ جو لوگ پاکستانی فریم ورک میں سیاست کے حامی ہیں، وہی حکومت میں تھے لیکن پاکستان نے ایٹمی تجربوں میں انہیں سرکاری طورپر اعتماد میں لینا اپنی جگہ انہیں اطلاع دینا تک گوارا نہیں کیا۔ اس کے باوجود ان کی سرکار ختم کی گئی۔ اس کٹھ پتلی حکومت کو بچانے کیلئے بھی انہیں پنجاب کے حکمرانوں کی آشیرباد حاصل کرنے کیلئے پنجاب کی یاترا کرنا پڑا۔ لیکن حکومت بھی چھین لی گئی اوربلوچ قوم کی نظروں میں ایٹمی حملوں (تجربات) کے جرم میں شریک بھی ٹھہرے۔ اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے اس جرم میں شراکت کے باوجود بلوچ پارلیمان پرست پاکستان سے عزت و احترام حاصل نہیں کرسکے۔ 

انہوں نے کہا سی ٹی بی ٹی(Comprehensive Nuclear Test Ban Treaty) 1996ء میں قائم ہوا جو کہ ایٹمی تجربات کی روک تھام کے حوالے سے سب سے بڑا معاہدہ ہے۔ اس کا مقصد دنیا میں ہر قسم کی ایٹمی تجربات کی روک تھا م ہے لیکن پاکستان نے اس معاہدے پر دستخط نہیں کئے ہیں۔ دوسرا معاہدہ این ٹی پی (Non Proliferation Treaty) کا کہنا ہے کہ عالمی امن کی خاطر تمام ایٹمی ہتھیاروں کو حذف کیا جائے۔ پاکستان اس کا بھی دستخط کنندہ نہیں ہے۔ لہٰذا پاکستان کا ایٹمی پروگرام اور بلوچستان میں ایٹمی دھماکے  عالمی قوانین کے خلاف ہیں۔ 

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے کسی غیرآباد اور بے آب و گیاہ بیابان میں ایٹمی تجربہ نہیں کئے بلکہ خاران، نوشکی اور دالبندین کے درمیانی علاقے چاغی راسکوہ میں ایٹمی حملہ کیا۔ ایٹمی حملے کے تابکاری اثرات سے آج کینسر سمیت دیگر  بیماریاں عفریت بن چکے ہیں۔ خشک سالی اور ماحولیاتی تباہی نے لاکھوں زندگیوں کو اجیرن بنا دیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ آج تک ان دھماکوں کے تابکاری کے اثرات بلوچستان میں تباہ کاری پھیلا رہے ہیں۔ بلوچ سرزمین پر ایٹمی تجربات  کے باعث وسیع علاقے میں جو تابکاری پھیل گئی تھی، اس کے اثرات ابھی تک موجود ہیں۔ جوہری تجربات کی وجہ سے لوگوں کے لیے پینے کا صاف پانی ناپید ہو چکا ہے۔ تابکاری سے ماحول میں تباہ کن تبدیلی آئی ہے۔ لوگوں کی زرعی زمینیں، باغات اور مال مویشی تباہ ہو چکے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیاں واقع ہوئی ہیں اور بارشیں ناپید ہوچکی ہیں۔ اس طرح کی شدید خشک سالی سے مقامی لوگ نقل مقامی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان دھماکوں سے انسانی، حیوانی اور جنگلی حیات پر نہایت برے اثرات پڑے ہیں۔ تابکاری اور موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے دو دہائیوں سے یہ علاقے قحط سالی کا شکار ہیں۔ صدیوں سے رواں دواں چشمے سوکھ گئے ہیں۔ بلوچستان کے طول و عرض میں کینسر ایک وبا کی طرح پھیل رہا ہے۔ جلد کا کینسر، آنکھوں کی بیماریاں، معزور بچوں کی پیدائش اور

malnutrition،

خواتین میں

premature birthاور low birth weight

بچوں کی پیدائش معمول بن چکی ہے۔

ترجمان نے  کہا کہ بلوچستان ایک مقبوضہ سرزمین ہے۔ مقبوضہ سرزمین پر ایٹمی دھماکے انسانی و قومی حقوق کی واضح خلاف ورزی ہے۔ ہم بحیثیت قوم اقوام عالم اور ”آئی اے ای اے“

(International Atomic Energy Agency)

سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچستان میں تابکاری کا جائزہ لینے کیلئے ایک تحقیقاتی ٹیم بھیج کر چھان بین کی جائے۔ پاکستان اور اس کے جوہری ہتھیار نہ صرف ہم پر قہر برپا کر چکے ہیں بلکہ یہ پوری دنیاکے وجود اور بقا کے لئے واضح خطرہ ہیں۔ اس بارے میں ڈاکٹرعبدالقدیر میڈیا کے سامنے یہ اقرار کرچکے ہیں کہ وہ ایٹمی پھیلاؤ میں ملوث رہ چکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کام ریاستی سطح پر ہوئی ہے۔ خطہ، دنیا اور عالم انسانیت کی تحفظ وسلامتی کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو اقوام متحدہ کی تحویل میں لیاجائے۔ بصورت دیگر یہ کسی بھی وقت مذہبی انتہا پسندوں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں کیونکہ پاکستانی فوج ایک جنونی فوج ہے جس نے عوامی مزاج کو بھی مذہبی جنونیت کی جانب راغب کیا ہے۔ 

انہوں نے کہا اقوام متحدہ کا فریضہ ہے کہ بلوچستان میں ایٹمی تجربات کے تابکاری کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے بلوچستان میں ایک معائنہ ٹیم بھیج دے۔

Share This Article
Leave a Comment