آواران،مشکے، واشک،پنجگور گچک میں پاکستانی فوج کی آپریشنز میں شدت پیر کی صبح دیکھنے میں آئی جہاں گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مختلف علاقوں میں بمباری کے ساتھ تمام جنگلات کو نذر آتش کر دیا ہے
مزید اطلاعات کے مطابق آواران دراسکی اور پسہیل میں تین ہیلی کاپٹروں نے پیر کے ساتھ اور منگل کی صبح بھی شیلنگ بھی کی ہے۔
مقبوضہ بلوچستان کے اہم ندیوں اور پہاڑوں میں فوجی آپریشن میں شدت پیرکی صبح لائی گئی۔اطلاع کے مطابق مشکے کے مشہور ندیتنک،اور اس میں بہنے والے بیسیوں ندی نالوں کے قدرتی جنگلات مزری، گز، پتک، اور دوسرے جنگلات فوجی بربریت میں جلائے جانے کی اطلاع ملی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ دریا ئے تنک کو مشکے سے لیکر واشک ٹوبہ اور پنجگور گچک تک مکمل آگ لگائی گئی ہے۔اسی طرح آواران کے مشہور دریا دراسکی جو آواران کو پنجگور سے ملاتی ہے اس میں گرنے والے مشہور ندیوں،پسہیل،ہت ہیل،آعظو، اور گنی کے تمام جنگلی حیات،پنجگور گچک کے مشہور ندیوں پینکلانچ،جوان تاک،سمیت دوسرے ندی نالوں میں موجود قیمتی درخت گن،زیتون اور مزری (پھیش) کے جنگلات جلا ئے جار ہے ہیں۔مجموعی طورپر ہم کہہ سکتے ہیں کہ لاکھوں پودے درخت جلائے گئے ہیں۔اور ان میں موجود جنگلی جانور، خاص کر پگ(مقامی زبان میں ھوک کہتے ہیں)اور سینکر بھی ہزاروں کی تعداد میں جل گئے ہیں۔واضح رہے کی ان علاقوں کے جنگلات پگ کے مسکن کیلے مشہور ہیں۔اور ان ہی جنگلات میں یہ جانور سینکڑوں سالوں سے رہتے چلے آرہے ہیں جن کے زندگی کا خاتمہ آج قابض پاکستانی فوج کر رہی ہے۔