بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ مشکے میں خواتین کے ساتھ پاکستانی فوج کے درندوں کی جنسی زیادتی کی خبر انتہائی ہولناک واقعہ ہے. ایسے واقعات کے خلاف بھرپور آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ واقعہ جنوری کے مہینے میں شہید جمعہ کے خاندان کے افراد کے ساتھ پیش آیا ہے۔ ایک فوجی آپریشن کے دوران فوج کے آلہ کار ڈیتھ سکواڈ کے درندوں نے شہید جمعہ اورحکیم بلوچ کے فیملی کی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ قابض فوج اور اس کے ڈیتھ اسکواڈز کی دھمکیوں کی وجہ سے اس خاندان نے اس بربریت کو سامنے لانے سے گریز کیا۔ پانچ مہینے بعد کسی ذریعے سے یہ خبر باہر آئی ہے۔ اس سے پاکستانی فوج اور اس کے آلہ کار ڈیتھ سکواڈز کی بربریت اور دہشت کے عالم کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
انھوں نے تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ جھاؤ اورمشکے کے درمیان وسیع پہاڑی سلسلہ ہے جس میں ہزاروں مالدار آباد تھے۔ ان میں حکیم بلوچ اوراس کے متعدد رشتہ دار بھی شامل تھے۔ پاکستانی فوج نے کم ازکم دس مرتبہ حکیم بلوچ کے گھروں کو نذرآتش کردیا۔ حکیم بلوچ کے جوانسال بیٹے محمد جمعہ کو 30 اپریل 2015 کو حراست میں لے کر دوسرے دن (یکم مئی 2015) کو فوج نے ان کی لاش پھینک دی۔ ان کے بیٹے حبیب اور دو نواسوں پر شدید تشدد کیا گیا۔کئی لوگوں کو سالوں تک زندانوں میں جبری لاپتہ رکھا گیا۔حکیم بلوچ کے دیگر رشتہ داروں میں عرضی، بادین، نورالدین، جان محمد، محمدکریم، علم خان، موسیٰ، حاجی محمد یعقوب، دادمحمد، اور غلام رسول کے گھروں کو بھی فوج نے جلا ڈالا اور انہیں جبری نقل مکانی کا شکار بنایا۔ پاکستانی درندہ فوج نے نہ صرف ان کے گھر نذر آتش کردیئے بلکہ ان کے پانچ سو سے زائد مال مویشی لوٹ لیے۔ ان لوگوں میں اکثر لوگوں کو نشیبی علاقوں میں فوجی کیمپوں کے قریب بسنے پر مجبورکیا گیا ہے جبکہ ان بڑی تعداد مغربی بلوچستان اورافغانستان ہجرت کرگئی ہیں۔
ترجمان نے کہا حالیہ سامنے آنے والا واقعہ فوج اور ڈیتھ سکواڈز کا ایک مشترکہ جرم ہے۔اس کے اہم مجرم سردارعلی حیدر کے دست راست شیرا ولد احمد، خداداد ولد عبدالکریم محمدحسنی ہیں۔ آچڑین سے اس خاندان کے چند خواتین اور بچے پہاڑی علاقے میں لکڑیاں چننے کے لیے گئیں تھیں جہاں وہ ان درندوں کے ہتھے چڑھ گئے۔ خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس کی خبر باہر آنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی ہے۔ اسی وجہ سے متاثرہ خاندان نے چپ سادھ لی ہے۔اس ہولناک واقعے میں پاکستانی فوج اور سردار علی حیدر کا گروہ براہ راست ملوث ہے۔ سردار علی حیدرمحمد حسنی کا گروہ اس سے قبل بھی ایسے واقعات میں ملوث رہا ہے۔ وہ کئی دفعہ معصوم بچیوں کو اٹھاکر اپنے کارندوں سے زبردستی نکاح دلا چکا ہے۔
انھوں نے کہا بلوچستان میں ایسے واقعات تواتر کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں لیکن فوج کی خوف و دہشت کی وجہ سے متاثرین کی آواز وہیں دب کر رہ جاتے ہیں اور بلوچ میڈیا تک نہیں پہنچ پاتے ہیں۔
ترجمان نے کہا، گوکہ اس واقعے کو پانچ مہینے گزر چکے ہیں لیکن وقت گزرنے سے واقعات کی ہیئت میں نہ تبدیلی آتی ہے اور نہ ہی انصاف کاحصول زائدالمیعاد ہوتا ہے۔ ہمیں بحیثیت بلوچ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہر واقعے پرمجرمانہ خاموشی نئے واقعات کا سبب بنتا ہے۔ اس ہولناک واقعے پر سیاسی، سماجی، انسانی حقوق کے اداروں اور سوشل میڈیا میں متحرک کارکنوں کو بھرپور آواز اٹھانا چاہئے، بصورت دیگر یہ درندے ہماری ماں، بہنوں کے ساتھ اپنی درندگی میں اضافہ ہی کرتے رہیں گے۔