بلوچستان ہائیکورٹ جانب 30دنوں کے اندر ملازمین کو 25فیصد الاؤنس دینے کا حکم

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس جناب جسٹس محمد کامران ملاخیل پر مشتمل بینچ نے گرینڈ الائنس ملازمین کے دھرنے اور 25فیصد الاؤنس سے متعلق دائر آئینی درخواست نمٹاتے ہوئے 30دنوں کے دوران ملازمین کو وفاق کی طرز پر 25فیصد الاؤنس دینے کے لئے اقدامات کی ہدایت کی ہے اور ریمارکس دیئے ہیں کہ ملازمین عوام کے لئے مسائل کھڑی کرنے کی بجائے درپیش مسائل کے حل کے لئے عدالت سے رجوع کیا کریں، ملازمین کے کونسل نے ان کا بھر پور ساتھ دیا اور ہمت کی، ملازمین کو تنخواہیں کٹنے کا ڈر تھا ہم تنخواہیں کاٹنے کے لئے نہیں بلکہ برابر کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔

جمعہ کے روز کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر اقبال حسن کاسی ایڈووکیٹ کی جانب سے گرینڈ الائنس ملازمین کے دھرنے اور ملازمین کو 25فیصد الاؤنس و دیگر سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت کے موقع پر درخواست گزار کی جانب سے سینئر قانون دان اور سپریم کورٹ کے وکیل نصیب اللہ ترین، حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے چیئرمین ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ارشد مجید، ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان ارباب طاہر، گرینڈ الائنس کے رہنماء داد محمد بلوچ، حبیب الرحمن مردانزئی، پروفیسر حمید خان، عبدالسلام زہری، ارباب نصراللہ، ماما عبدالسلام ودیگر عدالت کے رو برو پیش ہوئے۔

گرینڈ الائنس ملازمین کی جانب سے نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ نے اپنے وکالت نامہ ریسٹور کرانے کے لئے 28اپریل کو عدالت سے استدعا کی تھی جسے عدالت نے منظور کرلیا تھا۔ سماعت کے دوران حکومتی کمیٹی کے سربراہ اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ ارشد مجید نے ایک رپورٹ جمع کی اور بتایا کہ گرینڈ الائنس ملازمین اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں، گرینڈ الائنس کے قائدین اور حکومتی کمیٹی کے درمیان مشاورت کے بعد ملازمین کے مطالبات سے متعلق سمری وزیراعلیٰ بلوچستان کو بھجوادی گئی ہے۔

اس موقع پر نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ نے بینچ کے ججز سے استدعا کی کہ وہ وفاق کی جانب سے ملازمین کو دیئے جانے والے 25فیصد الاؤنس کا نوٹیفکیشن آج ہی جاری کرنے کے احکامات دیں جو صوبے بھر کے تمام ملازمین کو بلاتفریق دی جائے اس پر حکومتی کمیٹی کے سربراہ ارشد مجید نے بینچ کو بتایا کہ 25فیصد الاؤنس سے متعلق ورکنگ پیپرز تیار کرلیا گیا ہے، عید کی چھٹیاں اور بجٹ کی تیاری میں آفیسران کی مصروفیت کے باعث انہیں اس سلسلے میں مزید مہلت درکار ہے اس لئے عدالت سے استدعا ہے کہ وہ انہیں مہلت دے جس پر عدالت نے انہیں 30دن کی مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس دوران ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے متعلق اقدامات اٹھائے جائیں۔

عدالت کے ججز نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ ملازمین عوام کے لئے مسائل کھڑی کرنے کی بجائے اپنے مسائل کے حل کے لئے عدالت سے رجوع کیا کریں، گرینڈ الائنس کے کونسل نے ملازمین کا بھر پور ساتھ دیا اور ہمت کی، ملازمین کو تنخواہیں کٹنے کا ڈر تھا ہم تنخواہیں کاٹنے نہیں بلکہ برابر کرنے کے لئے بیٹھے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے آئینی درخواست نمٹا دی۔

یاد رہے صوبائی حکومت دارالحکومت کوئٹہ میں صوبے بھر کے ملازمین کی جانب سے گرینڈ الائنس کے پلیٹ فارم سے تنخواہوں میں وفاق کی طرز پر25فیصد اضافے اور چارٹر آف ڈیمانڈ میں شامل دیگر مطالبات کے لئے کوئٹہ میں احتجاجی دھرنا دیا گیا تھا جو کئی روز تک جاری رہا تاہم بعد ازاں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اقبال حسن کاسی کی جانب سے اس بابت بلوچستان ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی گئی جس پر عدالت نے فریقین کو طلب کیا، مذکورہ درخواست کی سماعت گزشتہ روز بھی مقرر تھی تاہم حکومتی کمیٹی کے سربراہ اور گرینڈ الائنس کے رہنماؤں کی عدم حاضری کے باعث سماعت کو 7مئی تک کے لئے ملتوی کردیا گیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment