کوئٹہ میں پولیس کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق، ورثا کا احتجاج، روڈ بلاک

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

سریاب روڈ پر ایگل اسکواڈ کی فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق جبکہ ایک زخمی ہوگیا، دونوں سگے بھائی ہیں، ورثاء کاکہنا ہے کہ دونوں بھائی افطاری کے بعد گھر کی طرف آرہے تھے کہ ایگل اسکواڈ نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں فیضان جتک جاں بحق جبکہ داد شاہ زخمی ہوا، فیضان طالبعلم تھا، ورثاء نے احتجاجاََ سریاب روڈکو بلاک کردیا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب سریاب روڈپر ایگل اسکواڈ کی ٹیم نے ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوارفیضان جتک جاں بحق جبکہ دوسرا اس کا بھائی زخمی ہوگیا۔

ورثاء کا کہنا تھا کہ دونوں بھائی افطاری کرکے گھر کی طرف سیٹلائٹ ٹاؤن آرہے تھے کہ ایگل اسکواڈ نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں فیضان جتک کو گردن پر گولی لگی جو موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا جبکہ داد جتک فائرنگ سے زخمی ہوا فیضا ن جتک طالبعلم تھا۔

ورثاء کا کہنا ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیاجائے ملوث اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی شہری کوبے گناہ نشانہ نہ بنایاجائے، ورثاء کی جانب سے سریاب روڈ کو بلاک کرکے احتجاج کیا گیا جبکہ پولیس حکام بھی جائے وقوعہ پر پہنچی جہاں رات گئے تک مذاکرات کئے مگر ورثاء کا احتجاج جاری رہا۔

کہا جارہا ہے کہ کٹھ پتلی وزیر داخلہ بلوچستان وزیرداخلہ ضیائلانگو نے سریاب روڈ پر پولیس کی فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کے معاملے کا نوٹس لے لیا۔اور آئی جی پولیس سے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کرلی۔

وزیر داخلہ نے رات گئے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو حراست میں لے لیا اور ایس ایس پی کی سربراہی میں واقعہ کی شفاف تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

انہوں نے واقعہ کی ہرپہلوسے تحقیقات کی جائے گی اور اس میں ملوث ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کی ہلاکت پر افسوس ہوا ہے،لواحقین سے ناانصافی نہیں ہوگی لواحقین کے ساتھ ہر سطح پر حکومت انصاف فراہم کرے گی۔

دوسری جانب بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماء ساجد ترین ایڈووکیٹ نے قبائلی رہنماء میر داد محمد جتک کے صاحبزادے فیضان جتک پر پولیس کی فائرنگ اور ان کے جانبحق ہونے پر دکھ و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اپنے بیان میں ساجد ترین نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی غنڈہ گردی کسی صورت قابل قبول نہیں، قانون کے رکھوالوں نے ایک بیگناہ نوجوان کو شہید کرکے قانون کی دھجیاں بکھیر دی ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعہ کا نوٹس لیں اور اس میں ملوث اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کرکے سخت سے سخت سزا دی جائے۔

Share This Article
Leave a Comment