کورونا کیسز میں شدت کےبہانے پاکستان بھر میں فوج نے کنٹرول سنبھال لیا ہے ۔
فوج عوامی مقامات اور مختلف علاقوں اور شاپنگ اسٹورز کا دورہ کرہی ، وہاں موجود گاہکوں اور دکان داروں کو ایس او پیز پر عمل درآمد کی ہدایت دے رہی ہے لیکن عوام اور تاجر برادری فوج کی اس مداخلت سے سخت نالاں ہیں کیونکہ فوج تشدد کا بھی سہارا لے رہی اور فوج و عوام کے مابیں ایک تصادم کا خطرہ بھی بڑ رہا ہے ۔
نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے فیصلے کے مطابق پاک فوج نے اسلام آباد اور راولپنڈی میں معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) پر عمل درآمد کے لیے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔
حکومتی حلقوں کے مطابق پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے جس کے پیشِ نظر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے مزید پابندیاں عائد کرتے ہوئے ایس او پیز پر عمل درآمد کے لیے فوج کی خدمات بھی حاصل کرلی ہیں۔
فیصلے کے مطابق کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے راولپنڈی سمیت مختلف علاقوں میں پرہجوم مقامات پر فوج تعینات کردی گئی۔
فوجی جوان جڑواں شہروں میں کورونا وائرس کی احتیاطی تدابیر کی خلاف ورزی کرنے والوں کی عکس بندی کررہے ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں بھی فوج کے ساتھ ہیں۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں فوجی اہلکاروں نے پولیس اور انتظامیہ کے ہمراہ مختلف علاقوں اور شاپنگ اسٹورز کا دورہ کرکے وہاں موجود گاہکوں اور دکان داروں کو ایس او پیز پر عمل درآمد کی ہدایت کی۔لیکن فوج و عوام میں ایک تصادم کی بھی صورتحال ہے ۔
واضح رہے کہ گزشتہ روزپاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزرا کے ہمراہ قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ عوام میں ایس او پیز پر عملدرآمد کروانے کے لیے میں نے پاک فوج کو ہدایت کی ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں۔
وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہم عوام کو ایس او پیز پر عمل کرنے کی ہدایت کررہے ہیں لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ عوام میں نہ خوف ہے اور نہ احتیاط کررہے ہیں اس لیے وبا کا پھیلاو¿ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے حالات دیکھیں کہ وہاں کس طرح آکسیجن کی کمی ہے، ہسپتال بھرے ہوئے ہیں کئی مریض ہسپتال پہنچنے سے پہلے دم توڑ دیتے ہیں۔
بعض علقوں کے مطابق فوج وزر اعظم عمران خان کی ہدایت سے نہیں بلکہ اپنی مرضی سے آئی ہے اور عسکری قیادت اب عوامی سطح پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتی ہے اور براہ راست اوقتدار پر اپنا کنٹرول
حاصل کرنا چاہتا ہے ۔
عوامی حلقوں کی جانب سے پاکستان بھر میں فوج کی تعیناتی کو مارشل لا قرار دیا جارہا ہے ۔
واضح رہے کہ کووِڈ-19 کے اعداد و شمار کے لیے بنائی گئی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پاکستان میں مزید 5 ہزار 908 افراد وائرس سے متاثر ہوئے جبکہ 157 مریض انتقال کر گئے۔