حکومت پاکستان نے تحریکِ لبیک پرپابندی کی باقاعدہ منظوری دیدی

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

پاکستان کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مذہبی سیاسی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان پر پابندی لگائے جانے کے بعد جمعے کو کابینہ میں اس جماعت کو تحلیل کرنے کے لیے سمری پیش کی جائے گی۔

جمعرات کی دوپہر کو وفاقی کابینہ نے اس تنظیم پر پابندی لگانے کی باقاعدہ منظوری دی جس کے بعد تحریکِ لبیک کا شمار بھی کالعدم تنظیموں کی فہرست میں ہوگا۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے ملک کے مختلف شہروں میں مذہبی تنظیم تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے فرانس مخالف مظاہروں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت پانچ افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

مظاہرین نے بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان بھی پہنچایا اور تقریباً دو دن تک مختلف شہروں کی بڑی سڑکوں سمیت قومی شاہراہیں بند کیے رکھیں۔

اس حوالے سے جمعرات کو اسلام آباد میں وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی پر پابندی کا نوٹیفیکیشن جلد ہی جاری کر دیا جائے گا۔

شیخ رشید احمد کا اس موقع پر کہنا تھا کہ حکومت اس حوالے سے بھی قانونی مشاورت کر رہی ہے کہ یہ تنظیم نام بدل کر اپنی سرگرمیاں جاری نہ رکھ سکے۔

شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ حکومت نے کوشش کی کہ معاملات مذاکرات کے ذریعے طے پائیں۔ انھوں نے کہا کہ دو سے تین دن میں اس تنظیم کو تحلیل کرنے کی سمری پر بھی عملدرآمد ہو جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم اور اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید خان سے مشاورت کی گئی ہے تاکہ تحریکِ لبیک پاکستان کسی اور نام سے اپنا کام جاری نہ رکھ سکے۔

تحریکِ لبیک کا حکومت سے مطالبہ تھا کہ متنازع خاکوں کی اشاعت پر فرانس کے سفیر کو ملک بدر اور فرانس کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔

تاہم شیخ رشید کا کہنا ہے کہ سفیر کو ملک بدر کرنے سے یورپی یونین وغیرہ سے حالات پیچیدہ ہو جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ اب قومی اسمبلی میں فرانس میں پیغمبرِ اسلام کے خاکوں کی اشاعت کے معاملے پر کوئی قرارداد نہیں آئے گی۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ حکومت نے کوشش کی کہ تحریکِ لبیک ایک مرکزی دھارے کی سیاسی جماعت کے طور پر نظام میں آئے اور اس حوالے سے ان سے متعدد رابطے اور ملاقاتیں رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت اسمبلی میں قرارداد کے مو¿قف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ قرارداد کے متن کے بارے میں حکومت کی تجویز یہ تھی کہ اس کے مضمرات ملک کے لیے منفی نہ ہوں اور سفارتی محاذ پر ملک مشکل میں نہ پڑ جائے، لیکن ٹی ایل پی اپنا متن تجویز کر رہی تھی۔

’جب ہمارے اور ان کے مذاکرات جاری تھے تو بہت سے باخبر ذرائع سے معلوم ہوا کہ 20 اپریل کو فیض آباد پر بھرپور دھرنا دینے کی تیاری جاری ہے۔‘

’ہم نے ان کو یہاں تک پیشکش کی کہ ایک متن آپ کا ہے، ایک ہمارا ہے، سپیکر ایک پارلیمانی کمیٹی کا اعلان کریں جس میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی ہو، اگر وہ کمیٹی ایک متفقہ متن لے آئے تو ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن وہ بضد تھے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں اسی کو مانا جائے اور پارلیمنٹ سے منظور کیا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت اور ریاست کا کام منت سماجت کرنا نہیں ہوتا لیکن حکومت نے مذاکرات کے ذریعے انھیں رضامند کرنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب اسلام آباد میں فرانس کے سفارتخانے نے پاکستان میں مقیم اپنے شہریوں کو ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سفارتخانے نے اپنے شہریوں کو ’سنگین خطرات‘ کی بنا پر ملک چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔

فرانسیسی سفارتخانے کی ایک ترجمان نے بی بی سی سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس وقت پاکستان میں مقیم فرانسیسی شہریوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ ملک میں جاری صورتحال کے پیش نظر ان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

فرانسیسی سفارتخانے کی ترجمان نے وضاحت کی کہ یہ ایڈوائزری محض ایک تجویز ہے اور فرانسیسی شہری اس پر عمل کرنے کے پابند نہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ اس دوران سفارتخانہ بند نہیں ہوگا اور معمول کے مطابق کام جاری رہے گا تاہم ڈیوٹی دینے والے عملے کی تعداد گھٹا دی جائے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article
Leave a Comment