جانی خیل میں چار لڑکوں کے قتل کیخلاف جاری دھرنا وزیراعلیٰ کی یقین دہانی کے بعد ختم

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت اور ضلع بنوں کے جانی خیل قبائل کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد نو روز سے جاری احتجاج ختم کردیا گیا۔

بنوں کے علاقے جانی خیل کے چار کم عمر نوجوان لگ بھگ ایک ماہ پہلے شکار پر گئے تھے لیکن واپس نہیں لوٹے۔ بعد میں اکیس مارچ کو ان کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی تھیں۔

پیر کوخیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے جانی خیل قبیلے کے مصالحتی جرگے کے مشران سے مذاکرات کے بعد مرنے والوں کی لاشیں ان کے آبائی علاقے روانہ کر دی گئیں۔

حکام کے مطابق صوبائی حکومت نے مظاہرین کے تمام مطالبات تسلیم کیے اور عملدرآمد کے لیے تین ماہ کا وقت مانگا ہے۔ آٹھ نکات پر مشتمل معاہدے میں علاقے سے دہشت گردوں کا خاتمہ، بےگناہ افراد کی رہائی، قتل کے واقعے کی شفاف تحقیقات اور قاتلوں کو سزا دینے کی شقیں شامل ہیں۔ اس معاہدے پر کمشنر بنوں اور جانی خیل قبائل کے تیرہ عمائدین نے دستخط کیے۔

نو روز سے جاری احتجاج میں لوگوں کا سخت غم و غصہ دیکھا گیا۔ اس احتجاج کو پاکستانی میڈیا پر بظاہر نظرانداز کیا گیا۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس پر ردعمل سامنے آتا رہا۔

بنوں کا یہ دھرنا بعد میں اس وقت ایک ریلی میں تبدیل ہوگیا جب مظاہرین نے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔

تاہم اتوار کو پولیس اور سکیورٹی فورسز نے انہیں راستے میں ہی روک دیا اور قافلے میں شرکت کے لیے جانے والے پشتون تحفظ مومنٹ کے رہنما منظور پشتین اور رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کو حراست میں لے لیا۔ انہیں پھر پیر کی صبح رہا کر دیا گیا۔

لوگوں میں قتل و غارتگری کے خلاف اشتعال کے مدنظر وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا محمود خان خود گذشتہ روز بنوں پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے کمشنر ہاو¿س میں جانی خیل کے عمائدین سے ملاقات کی اور علاقے میں امن کے قیام کیلئے تین ماہ کا وقت لیا ہے۔

انہوں نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ علاقے میں امن کے قیام کیلئے موثر اقدامات اٹھائیں گے اور ان چار نوجوانوں کے قتل کی شفاف انکوائری ہوگی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقے میں بدامنی پھیلانے والوں کو کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نےکہا کہ جانی خیل قبائل محب وطن لوگ ہیں اور انہوں نے ملک و قوم کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ وزیر اعلی نے امید ظاہر کی کہ قبائل اس واقعے کو دیگر مقاصد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

جانی خیل سے تعلق رکھنے والے چار نوجوانوں کی عمریں تیرہ سے سترہ سال بتائی جاتی ہیں۔ یہ لڑکے فروری کے آخری دنوں میں شکار کھیلنے گئے تھے، جس کے بعد وہ بیس روز تک لاپتہ تھے۔ ان کے رشتہ دار روز انہیں تلاش کرتے رہے تاہم ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔

پھر ایک ہفتہ قبل ایک چرواہے نے ان کی لاشیں دیکھیں اور علاقے کے لوگوں کو بتایا۔ بعد میں پتہ چلا کہ انہیں انتہائی بے دردی سے مارا گیا تھا، جس کے بعد مقتولین کے رشتہ داروں نے احتجاجی دھرنا شروع کیا۔

اس دھرنے میں دیگر اقوام کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔ تاہم انتظامیہ کی جانب سے خاموشی کی وجہ سے انہوں نے مجبور ہو کر احتجاج کا سلسلہ آگے بڑھایا اور بنوں پہنچ گئے، جہاں انتظامیہ نے آٹھ روز بعد ان کے رشتہ داروں اور جانی خیل قبیلے کے مشران سے مذاکرات کیے۔

ہفتہ اور اتوار کو ان مذاکرات کی ناکامی کے بعد عمائدین نے لاشیں اٹھاکر اسلام آباد کا رخ کیا، جس پر کئی مقامات پر پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش میں ان پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے برسائے۔

اس سے قبل سماجی بہبود کے صوبائی وزیرڈاکٹر ہشام انعام اللہ خان احتجاجی کیمپ پہنچ گئے تھے۔ انہوں نے شہدا کیلئے فاتحہ خوانی کی اور ان کے مطالبات حل کرانے کا یقین دلایا۔ تاہم مظاہرین مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے انصاف کیلئے اسلام آباد کا رخ کرنے کا اعلان کیا۔

اتوار کی صبح وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان اور صوبائی حکومت کے ترجمان کامران بنگش نے جانی خیل کے عمائدین سے مذاکرات کیے، جس کے بعد آٹھ نکاتی مطالبات پر دستخط کیے گئے۔

صوبائی وزیر کامران بنگش کا کہنا تھا کہ، "کچھ لوگ اس واقعے کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن وہ اس میں ناکام رہے۔” انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت علاقے میں امن قائم کرنے کیلئے مسلح گروپوں کا ضرور خاتمہ کرے گی۔

Share This Article
Leave a Comment