پشتون لانگ مارچ کے رہنماؤں کو پولیس نے حراست میں لے لیا

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

گذشتہ کئی روز سے بنوں جانی خیل میں لاشوں کے ہمراہ دھرنا دینے کے بعد لوگ احتجاجی ریلی کی شکل میں اسلام آباد کے طرف پیدل لانگ مارچ کررہے ہیں۔ پولیس کی جانب سے جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہے۔ لانگ مارچ میں شریک پشتون تحفط مومنٹ کے رہنماء منظور پشتین اور ایم این اے محسن داوڑ کے قافلے کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔

ایم این اے محسن داوڑ کو خیبر پختونخواہ کے علاقے کرک جبکہ پی ٹی ایم کے قائد منظور پشتین کو کوہاٹ پولیس نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام منتقل کردیا ہے۔

پی ٹی ایم رہنماء چند روز قبل جانی خیل میں پیش آنے والے واقعہ کے خلاف احتجاجی ریلی میں شریک تھے۔ مظاہرین بذریعہ روڈ اسلام آباد کے طرف پیدل لانگ کررہے ہیں۔

مظاہرین و پولیس میں کئی مقامات پر جھڑپوں کے بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ مظاہرین کے مطابق پولیس کے جانب سے اسلام آباد کے طرف جانے والے رستوں پر رکاوٹیں کھڑی کرکے مظاہرین پر تشدد و انہیں گرفتار کیا جارہا ہے۔

یاد رہے 21 مارچ کو خیبر پختونخواہ کے علاقے بنو جانی خیل سے چار بچوں کی مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئی تھی جس کے بعد سے بچوں کے لواحقین اور پشتون تنظیموں کے جانب لاشوں کے ہمراہ جانی خیل میں احتجاجی دھرنا جاری تھا تاہم آج دھرنا مظاہرین اسلام کے طرف مارچ کررہے ہیں۔

مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ قتل ہونے والے بچوں کو انصاف فراہم کیا جائے اور قبائلی علاقوں میں پھر سے طالبان سمیت دیگر مسلح لوگوں کو جگہ دینے کی کوشش بند کی جائے۔ اس سے قبل پشتون علمائکی جانب سے مظاہرین سے مزاکرات کی کوشش کی گئی تاہم مظاہرین سے مزاکرات ناکام ہوئے۔

Share This Article
Leave a Comment