لُمہ وطن کریمہ بلوچ کی شہادت

ایڈمن
ایڈمن
6 Min Read

اداریہ ماہنامہ سنگر فروری ایڈیشن


بلوچستان کے بارے میں عام طور پر ایک پسماندہ اور جدید وروشن خیال سوچ سے عاری معاشرے کا تاثر پیش کیا جاتا ہے، خاص طور پر بلوچ سماج کو تو ہم پرست اور خواتین کے بارے میں غیر مساویانہ جبر واستبداد کے رویوں کا حامل قرار دیا جاتا رہا ہے، لیکن بلوچستان اور بلوچ قومی سیاسی وسماجی تاریخ سے کسی حد تک آگا ہی ر کھنے والے حلقے ان مذکورہ بالا تمام تاثرات کو حقیقت سے زیادہ افسانہ قرار دیتے ہیں۔


بلوچ سماج جدید ترین صنعتی ترقی اور بنیادی انسانی ضروریات سے محروم ہونے کے باعث مادی طور پر پسماندہ ضرور ہے مگر فکری وعملی روشن خیالی اور سائنسی سیاسی شعور کے حوالے سے صنعتی طور پر کئی ترقی یافتہ معاشروں کی عمو می فکری وعلمی سطح سے کئی درجہ بلند تر ہے، سائینٹفک سیاسی ذہنی اپروچ اور نظر پاتی بلندی کی بنیادیں چونکہ بلوچ سماج کی اعلیٰ انسانی اقدار اور قومی روایات میں ہیں جس کے باعث مادی پسماندگی کے باوجود مرد وخواتین بلوچ قوم اور سرزمین کو لاحق خطرات اور چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے بلاتفریق اپنا کردار ادا کرتے رہے ہیں، خاص طور پر جنگوں اور بیرونی حملوں کے موقع پر مردوزن کی تقسیم سے بالا تر بلوچ قوم مزاحمت کرتی آئی ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپنی سرزمین، تہذیب وثقافت اور قومی شناخت سے گہری محبت اور واستگی کا عنصر بلوچ سماج میں گہرائی کی حدتک سرائیت ہونے کے باعث یہاں مزاحمتی سیاسی تحریکات بار بار ابھرتی رہی ہیں، جن میں شدت اور وسعت کے سبب حکمرانوں کے بلوچستان کے بارے میں اپنائے گئے نو آبادیاتی فکروعمل کو قرار دیا جاتا ہے۔


جبکہ بلوچ سیاسی کارکنوں، طلباء، نوجوانوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مختلف افراد کو حراست کے بعد لاپتہ کرنے اور انتہائی سفاکانہ جبر وتشدد کے بعد ان کی مسخ شدہ لاشوں کی صورت میں برآمدگی اور سرکاری اداروں کے بلوچ آبادیوں میں کارروائیاں اور انسانی حقوق کی پامالی کے بڑھتے ہوئے واقعات اس تحریک کو مزید طاقتور بنانے میں ایندھن کا کردار ادا کررہے ہیں، جس کا عکس تحریک میں پس پردہ کردار ادا کرنے والی خواتین کا اب کھل کر سامنے آنے کی شکل میں دیکھا جاسکتا ہے، جس کی سب سے نمایاں مثال بلوچ طلبہ تنظیم کی سابقہ چیئر پرسن کریمہ بلوچ ہیں، جو دوران جلاوطنی اب شہادت کا درجہ پاچکی ہیں۔
شہید کریمہ بلوچ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بلوچ قوم کی ایک انتہائی باشعور اور بے باک وبہادر بیٹی تھی، بلوچ قوم کے بنیادی حقوق کی بحالی اور لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کی تحریک میں اپنے دلیرانہ کردار کے باعث وہ جدوجہد کی علامت بن چکی تھیں
۔ کریمہ بلوچ کو یہ اعلی مقام آسانی سے حاصل نہیں ہوا تھا بلکہ وہ آگ اور خون کا ایک بڑا دریا پار کرچکی تھی،جس میں اسے اپنے لاپتہ پیاروں کی لاشیں اٹھانا پڑیں، آئے روز آپریشنز وچھاپوں اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا، گھروں کو نذر آتش ہوتے دیکھا اور جبری گمشدگیوں کیخلاف ہراحتجاج میں وہ پیش پیش رہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اسے لاپتہ یا قتل کیا جاسکتا ہے۔ شہید کریمہ بے خوف وخطراپنی راہ پرگا مزن رہی، کریمہ بلوچ کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ بلوچ طلباء تنظیم کی پہلی خاتون چیئر پرسن منتخب ہوئیں، شہید کریمہ بلوچ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ محض ظاہری سیاسی سرگرمیوں اور عمل برائے عمل تک محدود نہیں تھیں بلکہ کتاب بینی اور مختلف سیاسی وسماجی علوم اور سائنسی انقلابی نظریات سے آگاہی والی سرگرمیوں سے بھی گہری رغبت رکھتی تھیں۔


اپنی نظریات،انقلاب اور جہد مسلسل کی وجہ سے اسے دشمن نے کینڈا میں شہیدکیا اور وہ سمجھ گئے کہ ایک چپٹر ختم ہو گیا،مگر جب انکی جسد خاکی کراچی پہنچی اور بلوچ عوام سمیت تمام مظلوم اقوام عظیم انقلابی کامریڈ کو سلام اور دیدار کے لیے جمع ہونا شروع ہوئے تو ریاست حواس باختہ ہو گیا اور اس نے شہید کی جسد خاکی کو اغوا کرنے کے ساتھ مقبوضہ بلوچستان کے ضلع کیچ اور انکے آبائی گاؤں کو سیل کر دیا اور لوگوں کو اپنے قومی رہنما کی دیدار سے روک دیا گیا۔
مگر جہد مسلسل کی مثال بانک کریمہ بلوچ کی جنازے میں اسکے باوجود سینکڑوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور مقبوضہ بلوچستان کے تمام شہروں میں انکی غائبا نہ نماز جنازہ پڑایا گیا۔خواتین،بچے،بوڑھے،جوان سب سڑکوں پر نکل آئے اور بانک کی عظمت کو سلام کرتے ہوئے لُمہ وطن کو اس عہد سے سپرد خاک کیا کہ آزادی اور جہد مسلسل کو جاری رکھا جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment