افغان طالبان نے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کو ہندو کش کی اس ریاست سے طے شدہ فوجی انخلا میں ممکنہ تاخیر کے خلاف تنبیہ کی ہے۔ طالبان نے کہا ہے کہ ایسی کوئی بھی تاخیر نیٹو کی طرف سے ’جنگ کے تسلسل‘ کی خواہش سمجھی جائے گی۔
کابل سے ہفتہ تیرہ فروری کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق نیٹو کی طرف سے اس کے افغانستان سے مجوزہ فوجی انخلا کے بارے میں اس وقت قدرے بے یقینی کے ساتھ جو غور کیا جا رہا ہے، اس کے پیش نظر طالبان عسکریت پسندوں کی قیادت نے کہا ہے کہ اس انخلا میں کسی بھی تاخیر کا مطلب یہ ہو گا کہ نیٹو اتحاد ‘جنگ جاری رکھنے‘ کا ارادہ رکھتا ہے۔
قطری دارالحکومت دوحہ میں کابل حکومت اور افغان طالبان کے مذاکراتی نمائندوں کے مابین امن بات چیت جاری تو ہے مگر اس کا ابھی تک کوئی واضح اور قابل عمل نتیجہ نہیں نکلا۔
ان حالات میں مذاکرات جاری رکھنے کے باوجود طالبان افغانستان کے مختلف صوبوں میں اپنے مسلح حملے بھی نا صرف جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران ان میں کافی تیزی بھی آ چکی ہے۔
اس تناظر میں نیٹو میں امریکا اور اس کے اتحادی ممالک کے وزرائے دفاع کی سطح کا ایک اجلاس اگلے ہفتے ہو رہا ہے، جس میں یہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ افغانستان میں اس عسکری اتحاد کے تقریبا? 10 ہزار فوجیوں کو طالبان کے حملوں میں اضافے کے پیش نظر واپس بلا لیا جانا چاہیے یا ابھی وہ وہیں تعینات رہیں۔
نیٹو کے یہ مسلح دستے زیادہ تر افغان سکیورٹی فورسز کے لیے امدادی فرائض انجام دیتے ہیں۔
نیٹو کو درپیش اس تذبذب پر اپنے رد عمل میں آج ہفتے کے روز افغان طالبان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا، ”ہمارا نیٹو کے آئندہ وزارتی اجلاس کے حوالے سے اس اتحاد کو مشورہ یہی ہو گا کہ افغانستان پر قبضے اور جنگ کو جاری رکھنا نا تو نیٹو کے اپنے مفاد میں ہو گا اور نا ہی افغان عوام کے مفاد میں۔“
طالبان کے اس بیان کے مطابق، ”جو کوئی بھی جنگوں اور قبضے میں توسیع کی کوشش کرے گا، اسے اسی طرح جواب دہ بنایا جائے گا، جیسے گزشتہ دو عشروں کے دوران دیکھا گیا ہے۔“
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں گزشتہ برس امریکا اور افغان طالبان کے مابین ایک معاہدہ طے پا گیا تھا، جس کے تحت واشنگٹن حکومت نے اتفاق کیا تھا کہ افغانستان سے تمام غیر ملکی فوجی مئی 2021ءتک واپس بلا لیے جائیں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے افغانستان سے غیر ملکی فوجی انخلا کا یہ وعدہ اس شرط پر کیا تھا کہ اس کے بدلے میں افغان طالبان دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کے ساتھ اپنے جملہ رابطے ختم کر دیں گےا ور ساتھ ہی وہ کابل حکومت کے ساتھ کسی حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے بات چیت بھی شروع کریں گے۔