کوئٹہ میں مرد ڈاکٹر مظاہرین کے بعد خواتین مظاہرین کو حراست میں لیکر تھانے منتقل کردیا گیا
کوئٹہ میں بی ایم سی بحالی تحریک کے خواتین مظاہرین کو بلوچستان اسمبلی کے سامنے پولیس نے گرفتار کرکے تھانہ منتقل کردیا ہے جبکہ اس سے قبل مرد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔
خواتین مظاہرین کی گرفتاری کے خلاف کوئٹہ پریس کلب سامنے احتجاجی مظاہرہ بھی کیا گیا۔
بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے جاری کردہ بیان کہا گیا ہے کہ بی ایس اے سی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بلوچستان میڈیکل کالج کے طالبات کو گرفتار کرنے اور اْن کے ساتھ ناروا سلوک اختیار کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس غیر آئینی اور گھناؤنے عمل کیخلاف ہنگامی بنیادوں پر پریس کانفرس کرکے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کیا جائیگا
گرفتار مظاہرین میں طلباء رہنماء ماہ رنگ بلوچ اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹرل کمیٹی کے ممبر شمائلہ اسماعیل سمیت دیگر شامل ہیں۔
ماہ رنگ بلوچ نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائیٹ پر لکھا کہ جب تک ہمارے مطالبات تسلیم نہیں کیئے جائیں گے ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے، اس بار ہم اپنا احتجاج زیادہ نہیں کریں گے اور پولیس کے تحویل میں اپنا احتجاج بڑھا دیں گے۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ گورنر کو اس شرمناک حرکت کے لئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔