تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے میڈیا میں جاری بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ چند روز سے میڈیا پر اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ گردش کر رہی ہے کہ گویا گزشتہ سال اگست کے مہینے میں پاکستانی مجاہدین کے درمیان ہونے والے اتحاد کی وجہ سے تحریک طالبان پاکستان خطے کیلئے خطرہ بن رہی ہے اور مزید یہ کہ اس اتحاد کو عالمی جہادی تنظیموں یا بیرونی ہتھکنڈوں کی کاوش بھی ثابت کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ ہم ان پر اولاً یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مجاہدینِ پاکستان کا یہ اتحاد صرف اور صرف پاکستانی مجاہدین کی مل جْل کر کوششوں کا نتیجہ ہے، اس میں نہ تو کسی دوسرے ملک نے کردار ادا کیا، نہ ہی عالمی تنظیموں کا اس سے کوئی واسطہ ہے اور نہ ہی تحریک طالبان پاکستان اپنے معاملات میں کسی کو دخل اندازی کی اجازت دیتی ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہم صرف اور صرف ریاست پاکستان کے غیر عادلانہ نظام اور غیراسلامی قوانین و پالیسیوں کے مخالف ہیں اور پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی سے ہماری جنگ اسی بناء پر ہے، ہم اس کے علاوہ کسی بھی بیرونی ملک کیلئے نہیں سوچ رہے بلکہ ہر ملک اور خطے میں اپنے اپنے مجاہدین برسرِپیکار ہیں۔ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ جڑنے والی جماعتوں کا اتحاد سے قبل بھی یہی مؤقف رہا اور اس وقت ہمارا بھی یہی مؤقف تھا تو کیونکر اتحاد کے بعد اس مؤقف کو بدلا جائے؟
ہماری تمام جنگ میں پاکستان ہی کی زمین کا استعمال ہوا ہے اور اس میں کسی بھی بیرونی ملک نے ہماری مدد کی نہ ہم اس کے محتاج ہیں بلکہ یہ سب پاکستانی بھائیوں کے خلوص بھرے مالی مدد سے ہوتا آ رہا ہے۔ ہم اس بارے میں تمام پروپیگنڈوں کی مکمل طور پر تردید کرتے ہیں۔
پچھلے عشرے سے مختلف پاکستانی اقوام خصوصا بلوچ و پشتون پر جو ظلم کیے گئے، انہیں لاپتہ کیا گیا، ان کے گھر مسمار کیے گئے، بازار لوٹے گئے، انہیں ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور ان سے گیس، پانی و بجلی سمیت مختلف حقوق چھینے گئے، یہ سب کسی سے نہیں چْھپنا چاہئے۔ ہم اپنی قوموں کو ان کے حقوق دلانے اور ملک کے مقصدِ حصول کی جنگ لڑ رہے ہیں جو ہم اپنے مقاصد کے حصول تک لڑتے رہیں گے۔